Guru Granth Sahib desecrated in Sri Guru Harkrishan Ji Dhiaye near Ghauspur SIndh

اسلام آباد: پاکستان میں کرتارپور گوردوارہ صاحب کے احاطے میں ایک پاکستانی ماڈل کی جانب سے خواتین کے لباس کی تشہیر کے لیے قابل اعتراض تصاویر سامنے آنے کے بعد تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں خواتین کے آن لائن ملبوسات کی دکان منت چلانے والی خاتون نے گوردوارہ صاحب کے احاطے میں فوٹو شوٹ کروایا اور دربار صاحب کے سامنے ننگے سر پوز دیا۔آن لائن اسٹور کے مالک نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ننگے سر ماڈل کی کئی انتہائی قابل اعتراض تصاویر بھی پوسٹ کیں، جس کے وائرل ہونے کے بعد ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ تصویروں میں خاتون سرخ سوٹ میں سر ڈھانپے بغیر کیمرے کے سامنے پوز دیتی نظر آرہی ہے اور اس کے پس منظر میں گوردوارہ دربار صاحب ہے۔ ماڈل کے اس فعل پر سکھ برادری نے اعتراض کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سکھوں کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی ( ایس جی پی سی) نے گرودوارہ کے احاطے کے اندر پوسٹر چسپاں کیے ہیں، جس میں عقیدت مندوں کو تفریحی ویڈیو شوٹ نہ کرنے کی تنبیہ کی گئی ہے، کیونکہ ان میں سے کچھ کو ٹک ٹاک ویڈیو شوٹ کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، دہلی سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے سابق چیئرمین پرمجیت سنگھ سرنا نے کہا کہ یہ ایک انتہائی قابل اعتراض فعل ہے جس سے سکھوں کے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔سرنا نے کہا کہ وہ اس معاملے کو ڈاکٹر امر احمد، چیئرمین، پاکستان ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر اٹھائیں گے اور ان سے پی ایم یو ملازمین کو سکھ ‘رہت مریم’ (مذہبی ضابطہ اخلاق) سے آگاہ کرنے کو کہا ہے۔ انہوں نے پاکستانی حکام سے سکھ ‘مر یادا’ کے بارے میں اردو میں تحریری ہدایات دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پاکستان سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی ( پی ایس جی پی سی) اور نارووال کے مقامی حکام پر بھی زور دیا کہ تاریخی مندر میں آنے والوں کو گوردواروں میں نافذ سکھ ضابطہ اخلاق سے آگاہ کیا جائے۔ ایک میڈیا بیان میں انہوں نے کہا کہ مقدس مقام پر سر ڈھانپنے اور پیٹھ نہ دکھانے کی ہدایات اردو اور انگریزی میں دی جا نی چاہئے۔

بلاگر کی تصاویر منت کلاتھنگ نامی کپڑے کے برانڈ کے انسٹاگرام پیج پر شیئر کی گئی تھیں لیکن تنقید کے بعد ان تصاویر کو ہٹا دیا گیا۔اظہر مشوانی نے بعد میں ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ پولیس پہلے تصاویر لینے میں ماڈل اور برانڈ کے کردار کی تحقیقات کرے گی اور بعد میں مقدمہ درج کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پولیس جانچ کر رہی ہے کہ آیا ماڈل نے فوٹو شوٹ خود کرایا یا یہ سیشن برانڈ نے کیا۔ایک انسٹاگرام پوسٹ میں منت نے واضح کیا کہ ہمارے اکاو¿نٹس پر پوسٹ کی گئی تصاویر منت کلاتھنگ کی طرف سے کیے گئے فوٹو شوٹ کا حصہ نہیں ہیں، یہ تصاویر ہمیں تیسرے فریق (بلاگر) نے فراہم کیں جس میں انہوں نے ہمارا لباس پہن رکھا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تاہم ہم اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہیں کہ ہمیں یہ مواد پوسٹ نہیں کرنا چاہیے تھا اور ہم ہر اس شخص سے معذرت خواہ ہیں جس کی اس عمل سے دل آزاری ہوئی۔

بلاگر صالحہ امتیاز نے خود ان تصاویر پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی رسمی فوٹو شوٹ کا حصہ نہیں تھیں۔انہوں نے انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا کہ میں صرف تاریخ اور سکھ برادری کے بارے میں جاننے کے لیے کرتارپور گئی تھی، ایسا کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے نہیں کیا گیا تھا البتہ اگر اس سے کسی کو تکلیف پہنچی یا وہ سمجھتے ہیں کہ میں ان کی ثقافت کا احترام نہیں کرتی تو میں معذرت خواہ ہوں۔بلاگر نے مزید کہا کہ میں سکھ ثقافت کا بہت احترام کرتی ہوں اور میں تمام سکھ برادری سے معذرت خواہ ہوں۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری سے رپورٹ طلب کر کے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔