Parliament passes bill to repeal three farm laws Parliament passes bill to repeal three farm laws

نئی دہلی:(اے یو ایس ) متنازعہ زرعی قوانین واپسی بل لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں بھی حزب اختلاف کے مطالبہ کے باوجود کسی بحث کے بغیر ہنگامہ کے دوران منظور ہوگیا ہے۔ اب اس بل کو صدر جمہوریہ کے پاس دستخط کے لئے بھیجا جائے گا۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملیکا ارجن کھڑگے نے الزام لگایا کہ الیکشن ہارنے کے خوف سے حکومت نے اس قانون کو واپس لیا ہے۔ ملیکا ارجن کھڑگے نے کہا، ’ہم چاہتے ہیں کہ زرعی قوانین منسوخی بل، 2021 پر بحث ہو، لیکن لوک سبھا میں اس بل کو جلد بازی میں منظور کرکے وہ (حکومت) صرف یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کسانوں کے حق میں ہیں‘۔اس سے قبل پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہوتے ہی تینوں زرعی قوانین کی واپسی کا بل لوک سبھا میں پاس ہوگیا۔

تین زرعی قوانین کی مخالفت میں گزشتہ تقریباً ایک سال سے دہلی کی سرحد پر کسان تنظیمیں احتجاجی مظاہرہ کر رہی تھیں۔ زرعی قوانین کی واپسی سے متعلق بل کی منظوری کے بعد کارروائی ملتوی ہوگئی۔ اس سے قبل پارلیمنٹ سیشن شروع ہونے سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ مستقبل میں پارلیمنٹ کو کیسے چلایا جائے، کتنا اچھا تعاون دیا، کتنا مثبت کام ہوا، اس ترازو پر گولا جائے۔ نہ کہ پیمانہ یہ ہونا چاہئے کہ کس نے کتنا زور لگاکر سیشن کو روکا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت ہر موضوع پر کھلی بحث کے لئے تیار ہے۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں سوال بھی ہوں اور امن بھی ہو۔بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیٹ نے کہا، ’’زرعی قوانین منسوخی بل، 2021 ا?ندولن کے دوران اپنی جان گنوانے والے سبھی 750 کسانوں کو خراج عقیدت ہے۔ ایم ایس پی سمیت دیگر موضوعات زیر التوا رہنے کے سبب احتجاج جاری رہے گا‘۔