Situation In Mandani Under Control, 77 Accused Arrested: Charsadda DPO

خیبرپختونخوا:(اے یو ایس ) پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چارسدہ میں پولیس نے مندنی، تنگی اور عمرزئی کے علاقے میں فسادات اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعے کی ایف آر درج کر لی ہے جبکہ 77 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔چارسدہ پولیس کے سربراہ آصف بہادر نے منگل کو صحافیوں کو بتایا کہ ایف آئی آر میں ڈکیتی، جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان پہنچانے اور انسداد دہشت گردی قانون کی دفعات شامل ہیں۔ڈی پی او آصف بہادر نے مقامی صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ قران پاک کے نسخے کی مبینہ بے حرمتی کرنے والے ملزم کو جیل بھیج دیا گیا ہے تاہم وہ بات نہیں کر سکتا۔مقامی پولیس کے مطابق اتوار کے روز علاقے میں یہ بات گردش کر رہی تھی کہ کسی شخص نے قرآن کی مبینہ طور پر توہین کی ہے جس پر پولیس نے ایف آئی آر درج کرتے ہوئے مذکورہ شخص کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی۔جب مقامی لوگوں کو گرفتاری کا علم ہوا تو وہ تھانے کے قریب جمع ہونا شروع ہو گئے اور مطالبہ کیا کہ مذکورہ شخص کو ان کے حوالے کیا جائے۔

اتوار کی شب مشتعل مظاہرین نے مقامی پولیس ا سٹیشن پر دھاوا بول کر تھانے میں توڑ پھوڑ کی اور عینی شاہدین کے مطابق تھانے کو نذر آتش کر دیا۔پولیس تھانہ تنگی میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مشتعل لوگوں نے تھانے کی دیوار گرا دی، گاڑیوں کو آگ لگائی، تھانے میں داخل ہوئے اور کمرے سے اسلحہ، بیٹریاں اور ہتھکڑیاں بھی ساتھ لے گئے۔نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق منگل کو علاقے میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے تاہم کسی قسم کے کوئی پرتشدد کے واقعات یا مظاہرین کی دوبارہ سے منظم ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔مقامی صحافی واجد خان آفریدی کے مطابق اس واقعے کے حوالے سے مقامی عمائدین کا اجلاس رکن صوبائی اسمبلی محمد خالد کی سربراہی میں ہو رہا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ان فسادات کی روک تھام کے لیے مقامی عمائدین کو اعتماد میں لیا گیا ہے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات پیش نہ آئیں۔ایک عینی شاہد کے مطابق علاقے میں اتوار کی صبح ہی سے قرآن کی مبینہ توہین کی باتیں سننے میں آ رہی تھیں اور پھر شام کے وقت علاقے میں باتیں پھیلیں کہ جس شخص نے قرآن کی توہین کی ہے اس کو تھانے لے جایا گیا ہے۔عینی شاہد کے مطابق لوگوں کی بہت بڑی تعداد تھانے کے باہر اکھٹی ہو گئی اور مطالبہ کیا کہ مذکورہ ملزم ان کے حوالے کیا جائے۔’اس مطالبے کے ساتھ پہلے نعرہ بازی ہوتی رہی اور پھر اچانک ہجوم مشتعل ہو گیا اور تھانے کی عمارت کو نذر آتش کیا اور بعد میں ان ہی لوگوں نے قریب میں موجود چوکی کو بھی نقصان پہنچایا۔‘ایک اور عینی شاید کے مطابق تھانے میں موجود پولیس اہلکار کافی دیر تک مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر سڑک بند ہونے کی وجہ سے مدد نہیں پہنچ رہی تھی جبکہ مشتعل افراد کی تعداد بڑھتی ہی جارہی تھی۔

بتایا گیا کہ اس پر پولیس اہلکاروں نے تھانے کو چھوڑا کیونکہ مشتعل لوگ پولیس اہلکاروں پر بھی حملے کر رہے تھے۔چارسدہ کے ایک اور مقامی صحافی علی اکبر مہمند کے مطابق مشتعل لوگ مذکورہ شخص کو ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جس پر پولیس نے تھانے سے ہوائی فائرنگ کرنے کے علاوہ آنسو گیس کے گولے بھی پھینکے۔مگر عوام کی بڑی تعداد کے سامنے پولیس کی ایک نہ چلی اور بالا آخر پولیس کو ملزم کے ہمراہ تھانہ چھوڑنا پڑا تاہم پولیس نے ملزم کی حفاظت کو یقینی بنایا ہوا ہے۔علی اکبر مہمند کے مطابق تھانے میں موجود تمام ساز و سامان جل گیا، گاڑیاں راکھ کر ڈھیر بن گئی اور سارا ریکارڈ جل گیا۔