Sudanese forces fire tear gas at protest against post-coup political deal

خرطوم:(اے یو ایس ) سوڈانی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البراہان اور وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کے مابین ہوئے معاہدے کے خلاف سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے وسط میں منگل کے روز نئے مظاہرے ہوئے۔ مظاہر وں کے دوران گذشتہ ہفتے طے پانے والے اس سیاسی معاہدے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مظاہرین نے عسکری اور سیاسی فریقوں کی شراکت داری والی ملک کی مخلوط انتظامیہ کو مسترد کر دیا ۔ منگل کے روز کیے جانے والے عوامی مظاہرے سوڈانی پروفیشنلز ایسوسی ایشن کی جانب سے دی گئی ملین مارچ کال کے بعد سامنے آئے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے یہ کال عبوری خود مختار کونسل اور وزیر اعظم کے درمیان اتحاد پر رد عمل کے طور پر پیر کی شام دی تھی۔ جس کے بعد مختلف مقامات پر مظاہرے کیے گئے۔ سلامتی دستوں نے مظاہریئن کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس چھوڑی ۔

پروفیشنلز ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خود مختار کونسل اور وزیر اعظم حمدوک پر الزام عائد کیا کہ وہ ریاست کے اداروں کو ہائی جیک کرنے کی کوشش میں ہیں۔ تاہم ایسوسی ایشن نے باور کرایا کہ یہ کوششیں ناکامی سے دوچار ہوں گی۔العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے کے مطابق سوڈان کی متعدد سیاسی جماعتوں نے حالیہ مظاہروں کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے۔دارالحکومت خرطوم میں گذشتہ ہفتے بھی مذکورہ سیاسی معاہدے کے خلاف مظاہرے دیکھے گئے تھے۔ ادھر وزیر اعظم عبداللہ حمدوک ایک سے زیادہ بار اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ آزادی اظہار کے حق کے تحفظ اور احتجاجیوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔

دارالحکومت میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ احتیاط برتیں اور آج کے مظاہروں کی روشنی میں مجمع کی جگہوں پر جانے اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔پیر کے روز سیکورٹی حکام نے اعلی سطح کی گرفتار متعدد شخصیات کو رہا کر دیا تھا۔سوڈان میں 21 نومبر کو ایک سیاسی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ اس کے تحت اقتدار میں عسکری اور شہری فریقوں کی شراکت داری کی بحالی اور تمام گرفتار شدگان کی رہائی کا فیصلہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں 25 اکتوبر کو نافذ کی گئی ایمرجنسی منسوخ کر دی گئی۔