Extensive surveillance of Journalists and foreign students in China

بیجنگ:چین دنیا کا جدید ترین نگرانی کا نظام تیار کرنا چاہتا ہے۔ اسی منصوبے کے تحت چین نے صحافیوں، بین الاقوامی طلبا اور دیگر مشتبہ افراد پر نظر رکھنے کے لیے ایک نگرانی کا نظام قائم کیا ہے۔ چین کے سب سے بڑے صوبے ہینان کی حکومت نے 29 جولائی کو ایک ٹینڈر جاری کیا جس میں صوبے میں میڈیا کے افراد کی آمد پر ان کی تفصیلات جمع کرنے کا نظام تیار کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ہینان صوبے میں ایسے تین ہزار کیمرے نصب کیے گئے ہیں، جن سے چہرے کی شناخت کی جا سکے گی۔

ان کیمروں کو قومی اور علاقائی ڈیٹا بیس سے جوڑا گیا ہے۔ اس کے لیے 17 ستمبر کو چینی ٹیکنالوجی کمپنی نیؤسوفٹ سے 7,82,000 ڈالر کا معاہدہ کیا تھا۔ اس کمپنی کو دو ماہ میں اپنا کام مکمل کرنا تھا جو اب ختم ہوچکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عوامی مقامات پر لاکھوں کیمرے لگا کر ا سمارٹ فون اور چہرے کی شناخت کے ذریعے لوگوں کی نگرانی کی جائے گی۔ اس پیش رفت پر نظر رکھنے والے امریکی مانیٹرنگ ایجنسی آئی پی وی ایم کے مطابق خاص طور پر پبلک سیفٹی کے نام پر صحافیوں اور بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی اس سے خصوصی نگرانی کی جائے گی۔

واضح ہو کہ پیو کی جانب سے کیے گئے ایک تحقیقی سروے میں بتایا گیا تھا کہ دنیا بھر میں چین کی شبیہ داغدار ہو چکی ہے۔امریکہ میں 90 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ چین میں لوگوں کی ذاتی آزادی کا احترام نہیں کیا جاتا۔ اس میں 93 فیصد لوگ ریپبلکن تھے اور 87 فیصد لوگ ڈیموکریٹک نظریے کے حامی تھے۔ کناڈا میں 88 فیصد، سویڈن میں 95 فیصد، نیدرلینڈ میں 91 فیصد، اٹلی میں 89 فیصد، بیلجیئم میں 88 فیصد، اسپین میں 87 فیصد، جرمنی میں 85 فیصد، برطانیہ میں 84 فیصد، فرانس میں 83 فیصد، یونان میں 75 فیصد یقین ہے کہ چین میں لوگوں کی شخصی آزادی کا احترام نہیں کیا جاتاہے۔