COVID-19 Testing Required for U.S. Entry

واشنگٹن:(اے یو ایس ) امریکہ میں کرونا کی نئی قسم اومیکرون وائرس کا پہلا کیس لاس اینجلس میں سامنے آیا ہے جو ایسے شخص میں تشخیص کیا گیا ہے جس نے کوویڈ نائنٹین سے بچاو¿ کی ویکسین لگوا رکھی تھی۔وائٹ ہاوس کی جانب سے اس بات کا اعلان بدھ کے روز کیا گیا جبکہ سائنسدان ابھی وائرس سے لاحق نئے خطرات پر تحقیق کر رہے ہیں۔متعدی امراض اور الرجی کے قومی انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ وائرس کی نئی قسم سے متاثر ہونے والا شخص 22 نومبر کو جنوبی افریقہ سے امریکہ واپس آیا تھا اور اس میں اومیکرون وائرس کی تشخیص 29 نومبر کو ہوئی۔ڈاکٹر فاوچی نے کہا کہ متاثرہ شخص نے ویکسین لگوا رکھی تھی لیکن اس نے ابھی بوسٹر شاٹ نہیں لگوایا تھا اور اس نے کوویڈ کی ہلکی علامات کی شکایت کی تھی۔یاد رہے کہ نئے وائرس کی دریافت کے بعد صدرجو بائیڈن کی انتظامیہ نے جنوبی افریقہ پر سفری پابندیاں عائد کی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ شخص کی حالت بہتر ہو رہی ہے اور یہ مثال اس بات کو عیاں کرتی ہے کہ لوگوں کو ویکسین کے علاوہ بوسٹر شاٹس بھی لگوانے چاہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بوسٹر شاٹ لگوانا بہت ضروری ہے۔اس سے قبل آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ کوروناوائرس کی نئی قسم اومیکرون کے پھیلاو کو روکنے کے لیے صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ امریکہ آنے والے تمام بین الاقوامی مسافروں کے لیے ٹیسٹنگ لازمی قرار دینے کا فیصلہ کرے گی۔ ٹیسٹنگ ان لوگوں کے لیے بھی لازمی ہوگی جو کوویڈنائنٹین سے بچاو کی ویکسین لگوا چکے ہوں گے۔حکام اس بات پر بھی غور کررہے ہیں کہ تمام مسافروں کو آمد کے بعد سات روز کے لیے قرنطینہ میں رہنے کا کہا جائے اور ان کے لیے امریکہ آنے کے بعدتین روز کے اندر دوبارہ کووڈ نائنٹین کا ٹیسٹ کروانا لازمی ہو۔امریکہ ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اومیکرون قسم کے وائرس کے جنوبی افریقہ میں گزشتہ ہفتے دریافت ہونے کے بعد اس کی انسداد کی غرض سے سفری پابندیاں عائد کی ہیں۔

بدھ کو جاپان نے تمام بین الاقوامی ایئرلائنز سے کہا کہ وہ دسمبر کے اواخر تک جاپان آنے والی پروازوں کے لیے مسافروں کی ریزرویشن کو روک دے۔ خیال رہے کہ جاپان میں اس نئے وائرس سے اب تک سرکاری اعدادو شمار کے مطابق دو افراد متاثر ہوئے ہیں۔جاپانی حکومت نے جمعرات سے جاپان میں بسنے والے ان تمام تارکین وطن پر ملک میں داخے پر پابندی عائد کردی ہے جو جنوبی افریقہ اور نو دوسرے افریقی ممالک سے روانہ ہوں گے۔ادھر سعودی عرب اور نائجیریا نے اومیکرون وائرس کے اپنے ملکوں میں پہلے کیسوں کی تشخیص ہونے کا اعلان کیا ہے۔دریں اثنا عالمی ادارہ صحت نے ایسے تمام افراد کو بین الاقوامی سفر سے پرہیز کرنے کو کہا ہے جو ذیابیطس کا شکار ہیں اور جنہوں نے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین نہیں لگوائی کیونکہ وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں ان کی زندگیوں کو شدید خطرہ درپیش ہوگا۔عالمی ادارے نےتمام بین الاقوامی سفر پر پابندی کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ ایسا اقدام لوگوں کی صحت کو بہتر بنانے کی کوششوں کے ضمن میں منفی اثرات مرتب کرے گا کیونکہ ایسی سفری پابندی کے باعث ملک اپنے ملک کے صحت کے متعلق ڈیٹا کو چھپانے کی کوشش کریں گے۔ادھر خبر رساں ادارے رائٹرز نے کہا ہے کہ نومبر کے مہینے میں کارخانوں میں پیداورا کی کارروائیوں میں عالمی سطح پر اضافہ دیکھا گیا لیکن دنیا کو اشیا کی نقل و حمل میں سپلائی چین مسائل کا بدستور سامنا رہا۔سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث خام مال کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔