Iran steps up uranium enrichment capacity despite talks to salvage nuclear deal

تہران:(اے یو ایس ) ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے پر ویانا میں مذاکرات کے سائے میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی(آئی اے ای اے) نے کہا ہے کہ ایران نے ایک پہاڑ کے اندر موجود فوردو جوہری پلانٹ میں جدید سینٹری فیوجز کے ذریعے یورینیم کو 20 فیصد سے زیادہ خالصتاً افزودہ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ آئی اے ای اے نے ایران کے اس اقدام کو کشیدگی میں اضافے کا باعث قرار دیا ہے۔اقوام متحدہ کی ایجنسی نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے منگل کے روز تصدیق کی ہے کہ ایران نے فوردو پلانٹ میں 166 آئی-6 سینٹری فیوجز کی ایک سیریز میں 5 فیصد تک افزودہ یورینیم فلورائیڈ کا انجیکشن لگایا ہے جس کا مقصد اس کو خالص بنانے کے عمل کو 20 فیصد تک بڑھانا ہے۔

رائیٹرز کے مطابق ’آئی اے ای اے‘ نے رکن ممالک کو دی گئی ایک رپورٹ میں یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ وہ فوردو کی سہولت پر معائنہ کی تعداد کو بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔آئی اے ای اے کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایجنسی نے اصرار کیا ہے اور ایران نے فوردوتنصیب پر تصدیقی سرگرمیوں کی رفتار بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ ان سرگرمیوں کے نفاذ میں سہولت فراہم کرنے کے لیے طریقہ کار کے انتظامات پر ایران کے ساتھ مشاورت جاری رہے گی۔

آئی اے ای اے کی طرف سے گذشتہ ماہ جاری کردہ رپورٹ میں اشارہ دیا گیا تھا کہ ایران وہاں 166 آئی-6 مشینیں چلا رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں انتظار اور توقعات کی فضا قائم ہے جس میں دو روز قبل ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات جہاں سے رکے تھے دوبارہ شروع ہوئے تھے۔ بدھ کو العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے یورپی حکام کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ مذاکرات کے ساتویں دور کے آغاز کے باوجود مغربی فریق اب بھی تہران کی جانب سے مذاکرات کو جاری رکھنے کے بارے میں وضاحت کا انتظار کر رہے ہیں جہاں پر پچھلے دور رہ گئے تھے۔یورپی ممالک یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا ایران مذاکرات کی آڑ میں وقت حاصل کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہا ہے۔ آیا وہ اس میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔