Afghanistan's economy crashed since Taliban takeover

کابل: اس سال اگست میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد سے افغانستان کو معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہاہے اور اس کا مالیاتی بحران بڑھ گیا ہے۔ انٹرنیشنل فورم فار رائٹس اینڈ سیکیورٹی کے مطابق طالبان کے قبضے کی وجہ سے افغانستان کی معیشت مسلسل گر رہی ہے۔

افغانستان کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت اور خدمات کے شعبے پر منحصرہے، ان دونوں میں پہلے ہی گراوٹ دیکھی جارہی ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی عدم تحفظ فضا اور وسیع پیمانے پر خشک سالی کی وجہ سے زرعی روزگار سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔اس سے قبل، ورلڈ فوڈ پروگرام(ڈبلیو ایف پی) کے مطابق افغانستان میں دس میں سے نو افغان خاندانپہلے ہی خوراک کا مناسب ذخیرہ حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور دس لاکھ سے زائد بچوں کو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور یہاں تک کہ پوری آبادی میں خسرہ اور پولیو جیسی بیماریاں پھیلنے کے علاوہ بھکمری سے موت بھی ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی فورم برائے حقوق و سلامتی کے مطابق، جنوبی صوبہ قندھار کے علاقائی ہسپتال میں غذائی قلت کے وارڈ میں 70 سے زائد بچے ان کی گنجائش سے زیادہ داخل ہیں۔ امریکی دبا و¿کے تحت، افغانستان کی معیشت کو مفلوج کرنے والے ملک کے صحت کے نظام میں بڑے پیمانے پر شراکت پر پابندیاںلگائے جانے کے ساتھ،عالمی بینک نے 600 ملین ڈالر کی فنڈنگ میں کمی کی ہے۔ نتیجے کے طور پر، فنڈز کی کمی کی وجہ سے افغانستان میں کوویڈ کے مریضوں کے لیے 2000 ہسپتال اور کلینک بند کرنے پڑ گئے۔