Amit Shah condemns Nagaland killings, assures thorough probe

نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ناگالینڈ کے مون ضلع کے اوٹنگ گؤں میں ہونے والے اس واقعہ پر دکھ کا اظہار کیا ہے جس میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں14 شہری مارے گئے۔ اس واقعہ میں سیکورٹی فورسز کا ایک جوان بھی ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ امت شاہ نے کہا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے کرائی جائے گی اور اس معاملے میں جلد از جلد اس کے ذمہ داروںکو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ اتوار کو ایک ٹویٹ پیغام میں امت شاہ نے کہا کہ مجھے ناگالینڈ کے اوٹنگ میں پیش آنے والےافسوسناک واقعہ سے دکھ پہنچا۔ میں مرنے والوں کے اہل خانہ کے تئیں اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔

ریاستی حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی ایک اعلیٰ سطحی خصوصی تحقیقاتی ٹیم اس واقعہ کی تحقیقات کرے گی اور متاثرین کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کرایا جائے گا۔سیکورٹی فورسز نے میانمار کی سرحد پر واقع مون ضلع میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائی شروع کی تھی اور میانمار کی سرحد سے متصل مون ضلع کے اوٹنگ گاو¿ں میں کارروائی کے دوران ان دیہاتیوں کی ہلاکتوں پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے کو اعلیٰ ترین سطح پر اٹھایا گیا ہے اور تحقیقات کے لیے کورٹ آف انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔

پولس نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ترو اوٹنگ روڈ پر ایک گاڑی پر فائرنگ کی جس میں گاو¿ں کے لوگ سوار تھے۔مون کا علاقہ ناگا گروپ این ایس سی این(کے) اور یوایل ایف اے کا گڑھ رہا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب ریاست ’ہارن بل فیسٹیول‘ منانے جا رہی ہے اور اس علاقے میں کئی سفارت کار پہلے سے موجود ہیں۔ دریں اثنا این ایس سی این (آئی ایم) نے سلامتی دستوں کی سفاکانہ کارروائی میں شہریوں کی ہلاکتوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہ ناگا و¿ں کے لیے ”یوم سیاہ“ ہے۔اور جن لوگوں نے یہ وحشیانہ کارروائی کی ہے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہئے۔