Man tortured and killed in Pakistan over alleged blasphemy

اسلام آباد:(اے یو ایس ) سیالکوٹ کی وزیر آباد روڈ پر ٹریفک تو آج بھی معمول کی طرح جاری تھی، مگر یہاں دکانوں میں خاموشی اور محلوں میں خوف کے سائے ہیں۔ ان کے سامنے راکھ کا ایک ڈھیر ہے جس میں کپڑوں کے جلے ٹکڑے ہیں اور جوتوں کا ایک جوڑا بھی۔یہاں ان کی آنکھوں کے سامنے ایک جیتے جاگتے انسان کو قتل کرنے کے بعد آگ لگائی گئی تھی۔ اس شخص کا جسم99 فیصد جل گیا تھا اور پاو¿ں کے علاوہ کوئی ہڈی سلامت نہیں تھی۔میں یہ تو نہیں جانتی کہ یہ جوتے اس ہلاک ہونے والے سری لنکن شہری پریانتھا کمار کے ہیں یا مشتعل ہجوم میں سے کسی شخص کے جو ان کے مردہ جسم کو لاٹھیوں اور جوتوں سے مار رہے تھے۔یہ پاکستان میں توہین مذہب کے الزام کے بعد قتل کا پہلا واقعہ نہیں، اور ایک بڑا طبقہ سمجھتا ہے کہ یہ آخری واقعہ بھی نہیں ہے۔میں جب ہفتے کے روز اس مصروف سڑک موجود تھی تووہاں اس وقت بھی ایک ہجوم اکٹھا ہوتا ہے، میڈیا کے نمائندے آتے ہیں تو بچے، نوجوان اور کبھی بزرگ ان کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔

مگر واقعے سے متعلق سوال کریں تو وہ کہتے ہیں ‘جو ہوا برا ہوا’، یا یہ کہ ‘ہمیں کچھ نہیں پتا۔’فیکٹری کے سامنے دکانوں اور ورکشاپس کی ایک قطار ہے اور ان کے عقب میں گنجان آباد محلے۔انھی دکانوں میں سے ایک کے مالک، جن کی عمر ساٹھ برس کے قریب ہے، سے ہم نے پوچھا کہ انھوں نے جمعہ کی صبح کیا دیکھا، تو ان کا کہنا تھا کہ جو ہوا فیکٹری کے اندر ہوا۔’اس وقت باہر تو سب نارمل تھا جیسا کہ روز ہی ہوتا ہے۔ کوئی ہلچل نہیں تھی۔ کچھ دیر بعد شور کی آوازیں آئیں اور کچھ لوگ جمع ہونے شروع ہو گئے، اتنے میں فیکٹری کے اندر سے بھی ایک ہجوم باہر نکلنے لگا۔ ہم سمجھے فیکٹری کا اندرونی مسئلہ ہوگا۔ مگر لوگوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے دیکھے، ان کے نعرے اور غصہ دیکھا تو میں نے فورا ًدکان بند کی اور بھاگ گیا۔ مجھے علم نہیں تھا کہ ہو کیا رہا ہے، بس یہ سوچا کہ یہ لوگ غصے میں ہیں اور کہیں دکان کو ہی آگ نہ لگا دیں۔ اس سڑک پر چھوٹے چھوٹے ہوٹل بھی ہیں جہاں چائے بھی ملتی ہے اور چھوٹی دکانیں بھی۔ یہاں بیٹھے نوجوانوں کے ایک گروہ کے پاس گئے کہ کل وہ بھی تو یہیں موجود تھے۔پہلے پہل تو انھوں نے انکار کیا کہ ‘ہم نے کچھ نہیں دیکھا’، مگر پھر آہستہ آہستہ انھوں نے بتانا شروع کیا کہ کیسے لوگ جمع ہوئے اور اچانک سب کچھ رک گیا۔ وہ فیکٹری کے ان لوگوں کے بارے میں بتانے لگے جو کام میں وقفوں کے دوران ان کی دکانوں اور ہوٹلوں میں آتے تھے۔’ان میں سے بہت سے ورکرز یہاں آتے تھے۔ وہ اپنے ساتھیوں سے باتیں کرتے تو ہمیں بھی سب سنائی تو دیتا تھا۔ وہ اکثر کہتے کہ ان کا جنرل منیجر سخت مزاج کا بندہ ہے۔ وہ ڈسپلن کا بھی زیادہ خیال رکھتا تھا، کوئی ملازم کام پر دیر سے آئے تو خفگی کا اظہار بھی کرتا، یہ تمام باتیں ان ملازمین کو پسند نہیں تھیں۔ انھیں سختی پسند نہیں تھی اور اسی لیے وہ اکثر اپنے اس افسر سے خار کھاتے اور ان کے لیے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے۔

یہ سب ہم سنتے تھے مگر کبھی یہ نہیں سوچا کہ یہ ایسی بات ہوجائے گی کہ انہیں مار دیا جائے گا۔’وہ نوجوان کہتے ہیں کہ انھوں نے ایسے مناظر کبھی نہیں دیکھے۔’بہت خوف ہے۔ ہم یہاں گلی میں ہی رہتے ہیں۔ کل سے کوئی باہر نہیں نکل رہا۔ سب ڈر گئے ہیں کہ کیا خبر کب ان کے ساتھ کیا ہو جائے۔ ایسا لگتا ہے یہ ہم سب کے لیے بھی ایک دھمکی ہے۔ صبح باہر نکل کر دیکھا تو یہ سامنے راکھ کا ڈھیر پڑا تھا۔ میں رات کو گھر سے باہر سامان لینے نکلا تو اس سڑک پر چلتے ہوئے ڈر لگ رہا تھا۔’پولیس اہلکاروں کے مطابق جب فیکٹری میں یہ خبر پھیل گئی کہ پریانتھا پر توہین مذہب کا الزام لگا ہے تو ان کے چند ساتھی انھیں محفوظ رکھنے کی غرض سے چھت پر لے گئے۔ وہ وہاں نصب سولر پینلز کے نیچے چھپ گئے۔ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کے ساتھی ملک عدنان انھیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر نعرے لگاتے مشتعل ہجوم نے ان کی ایک نہ سنی۔ ملک عدنان بھی اس وقت پولیس کی حفاظت میں ہیں۔اونچی دیواروں کے پیچھے موجود کھیلوں کا سامان بنانے والی فیکٹری بھی آج بند ہے۔ باہر پولیس کی نفری تعینات ہے اور اندر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار چکر لگاتے ہیں۔یہاں سے اب تک سو سے زیادہ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اکٹھی کی گئی ہے۔

فیکٹری میں ان مقامات پر خون کے نشان اب بھی موجود ہیں جہاں سری لنکن شہری پریانتھا کمار کی لاش کو گھسیٹا گیا تھا۔سیڑھیاں خون آلود ہیں۔ دیواروں پر ان کے ہاتھوں اور ان کے جسم سے بہنے والے خون کے نشانات ہیں اور وہ چھت بھی خون کے دھبوں سے بھری ہے جہاں ان پر تشدد کا سلسلہ شروع ہوا۔پریانتھا کمار کے ساتھی کہتے ہیں کہ وہ کام کے معاملے میں لاپرواہی کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ فیکٹری کے سینیئر حکام میں سے ایک نے بتایا کہ وہ ملنسار تھے، اور ان پر کام کی دھن سوار رہتی تھی۔’وہ کئی سالوں سے ہمارے ساتھ کام کر رہے تھے۔ اور اس سے پہلے ٹیکسٹائل انڈسٹری سے منسلک رہے۔ وہ ہمارے اہم رکن اور بہترین منتظمین میں سے ایک تھے۔’ہزاروں میل دور سری لنکا میں ان کی اہلیہ اور دو بچوں نے سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو میں یہ سارے مناظر دیکھے۔وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کے والد یہاں ایک نہایت پروفیشنل شخص کے طور پر جانے جاتے تھے۔سری لنکا میں اپنے بچوں کے ساتھ مقیم پریانتھا کمار کی اہلیہ نیروشی دسانایئکے نے بی بی سی سے بھی بات کرتے ہوئے بتایا کہ ‘میرے شوہر ایک معصوم انسان تھے۔ میں نے خبروں میں دیکھا کہ انھیں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ میں نے انٹرنیٹ پر دیکھا کہ ان پر حملہ کیا گیا، ان سے انتہائی غیر انسانی سلوک کیا گیا۔’انھوں نے سری لنکا اور پاکستان کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی منصفانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ انھیں انصاف مل سکے۔

دوسری جانب ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمر سعید ملک کے مطابق ہلاک ہونے والے پریانتھا کمار کا جسد خاکی لاہور روانہ کر دیا گیا ہے جہاں وہ سری لنکا کے سفارتی عملے کے حوالے کیا جائے گا جو انھیں ان کے ملک تدفین کے لیے لے جائیں گے۔پریانتھا کمار کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی سامنے آئی ہے جس کے مطابق ان کا جسم ننانوے فیصد جلا ہوا تھا، جبکہ ان کے جسم میں ان کے پاو¿ں کی ہڈیوں کے علاوہ کوئی ہڈی سلامت نہیں تھی۔ رپورٹ کے مطابق ان کی موت ان کے دماغ پر لگنے والی چوٹ سے ہوئی۔پاکستان میں توہین مذہب کے الزام پر قتل و غارت، احتجاج اور توڑ پھوڑ کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔محض ایک ہفتہ قبل صوبہ خیبرپختونخواہ کے علاقے چارسدہ میں مشتعل ہجوم نے ایک پولیس اسٹیشن سمیت کئی سرکاری املاک کو نذر آتش کر دیا تھا۔وہ پولیس سے مطالبہ کر رہے تھے کہ پولیس کے زیرحراست ا±س شخص کو ہجوم کے حوالے کیا جائے جن پر توہین مذہب کا الزام تھا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی گئی اور علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔اس سے چند سال قبل خیبرپختونخواہ میں ہی مشعال خان کو بھی توہین مذہب کا الزام لگا کر مشتعل ہجوم نے انھیں یونیورسٹی ہاسٹل میں بےدردی سے قتل کر دیا تھا۔پاکستان میں اس وقت سینکڑوں افراد توہین مذہب کے الزامات میں جیلوں میں موجود ہیں۔اس حوالے سے ملک میں موجود قوانین کے غلط استعمال کو تسلیم تو کیا جاتا ہے مگر اس قانون میں ترمیم یا تبدیلی کو ایک ایسا حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے کہ اس پر بات کرنا خودکشی کے مترادف ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس وقت اسلام نظریاتی کونسل کے سربراہ قبلہ ایاز نے کہا تھا کہ یہ قومی اور جذباتی منظرنامے کا حصہ بن گیا ہے، اس میں تبدیلی کی صورت میں ردعمل کے لیے حکومت بھی تیار نہیں، لیکن تمام تحفظات اس کے غلط استعمال کے حوالے سے ہیں۔’سیالکوٹ کے وزیرآباد روڈ پر موجود زیادہ تر دکانیں بند تھیں اور جو کھلی تھیں وہاں گاہک نہیں تھے۔کچھ لوگ اسی راکھ کے ڈھیر کے سامنے بینچ لگائے بیٹھے تھے۔ یہاں گاڑیاں کچھ لمحوں کو رکتیں، پھر ہارن کی آواز آتی اور وہ آگے بڑھ جاتیں۔کچھ دیر بعد ہم نے دیکھا کہ ایک شخص یہاں پر پہنچا۔ انھوں نے اپنی جیب سے موبائل فون نکالا۔ پہلے انھوں نے راکھ کے ڈھیر کی ویڈیو بنائی، پھر خود اپنی سیلفی لی اور چلے گئے۔