Omicron Variant : India's tally rises to 21 with 17 more testing positive for new COVID strain

نئی دہلی:(اے یوایس)دہلی کے وزیرصحت ستیندرجین نے دہلی میں کوروناوائرس کے اومیکرون ویرئنٹ کے پہلے معاملے کی تصدیق کی ہے جس کے بعد ہندوستان میں اومیکرون ویرئنٹ متاثرین کی تعدادبڑھ کر21 ہوگئی ہے۔ تنزانیہ سے ایک شخص واپس آیا تھا جو اس مرض میں مبتلا پایا گیا اسے قومی راجدھانی میں لوک نائک جے پرکاش نارائن اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں اومیکرون مریضوں کیلئے ایک علیحدہ وارڈ بنایا گیا ہے۔ مریض کی مکمل ٹیکہ کاری ہوتی ہے۔ وزیر صحت نے کہا کہ مرکزی حکومت کو وزیر اعلی اروند کیجریوال کا مطالبہ ماننا چاہئے اور اومیکرون ویرینٹ سے متاثر تمام ممالک سے آنے والی تمام پروازوں کو جلد از جلد روکنا چاہئے۔

دہلی کے لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، ماسک پہنیں، سماجی دوری پر عمل کریں اور جلد از جلد ویکسین لگوائیں۔ اب تک کوویڈ ۔19 ٹیسٹ میں پازیٹیوپائے جانے والے21 افراد میں سے 9راجستھان کے دارالخلافہ جے پور میں،سات مہاراشٹر کے پنے ضلع میں اور ایک دہلی میں پایا گیا۔ متاثرہ مریض کو آئیسولیٹ کیا گیا ہے۔ ایل این جے پی اسپتال میں میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر سریش کمار نے کہاکہ اومیکرون سے متاثرمریض کو شروع میں گلے میں خراش اور بخار تھا۔ مریض کے بد ن میں درد ہورہا ہے اور کمزوری محسوس ہورہی ہے لیکن آکسیجن کی سطح میں کوئی گراوٹ درج نہیں کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مریض کی 24 گھنٹے نگرانی کی جارہی ہے اور آکسیجن سطح کی خصوصی دیکھ ریکھ ہورہی ہے۔ اگر اسپتال میں اومیکرون کے مریضوں کی تعداد بڑھتی ہے تو ہم اس کیلئے تیارہیں۔ اس سے قبل کرناٹک، گجرات اور مہاراشٹر میں اومیکرون ویرئنٹ کے معاملوں کی تصدیق ہوئی تھی۔ واضح ہوکہ ہندوستان میں کورونا اومیکرون ویریئنٹس کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں آئی آئی ٹی کانپور کے پروفیسر منیندرا اگروال نے اپنے مطالعے کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ تیسری لہر جنوری میں شروع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے نئے ویریئنٹ اومیکرون سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ اسی دوران آئی آئی ٹی کانپور میں کورونا کے 3 نئے معاملے سامنے آئے ہیں۔ دو آئی آئی ٹی کیمپس، ایک خاتون آزاد نگر کی رہائشی ہے۔ تمام نمونے کے جی ایم یو لکھنو¿ بھیجے گئے ہیں۔ اس وقت شہر میں ایکٹو کیسز کی تعداد 5 ہو گئی ہے۔