Pak rights activist convicted of espionage; gets RI for 14 years

اسلام آباد :(اے یو ایس ) نامورسماجی کارکن ادریس خٹک کو 14سال کی قید بامشقت سنائی گئی ہے ان کا مقدمہ ایک فوجی عدالت میں تھا ۔ اور ان پر ےہ الزام تھا کہ وہ ہمسایہ ملکوں کے لئے جاسوسی مےں ملوث ہیں۔اےک رپورٹ کے مطابق جنرل کورٹ مارشل نے اپنے فیصلے کے دوران کہا کہ ادریس خٹک پر جاسوسی اور حساس معاملات لیک کرنے کا الزام ثابت ہوا ہے۔ ان کے خلاف اےک سال سے مقدمہ چل رہا تھا ۔ سزا پر عمل درآمد کے لئے جہلم ڈسٹرکٹ جیل منتقل کردیا گیا ۔ ادریس خٹک کے خلاف پاکستانی فوجی آرمی ا یکٹ کے تحت مقدمہ چلایا گیا ۔

سزا کے خلاف وہ ٹریبونل کے سامنے اپیل کرسکتے ہیں اس کے بعد وہ صرف فوجی سربراہ ہی ان کی قسمت کا فیصلہ کرسکتے ہیں ادریس خٹک ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ساتھ وابستہ رہے اور وہ قبائلی علاقوں میں جبری گمشدگی کے لوگوںکی تلاش کررہے تھے انہیں 2019مےں خفیہ اےجنسیوں نے پشاور جاتے ہوئے گرفتار کیا او راس کے بعد پشاور ہا ئی کورٹ میں ان کے اہل خاندان نے برآمدگی کی دررخواست دائر کی اور وزارت دفاع نے تسلیم کیا کہ وہ فوج کی حراست میں ہیں۔ بعد ازاں ادریس خٹک کے بھائی نے پشاور ہا ئی کورٹ میں فوجی عدالت میں ان کے مقدمے کی سماعت روکنے کی درخواست کی جنہیں مسترد کرد یا گیا ۔

مسٹر خٹک کے علاوہ تین سابق فوجی افسران کو بھی جاسوسی کے الزام میں سزا سنائی گئی ۔ لیفٹننٹ کرنل فیض رسول کو 14سال ،لیفٹننٹ کرنل اکمل کو 10سال جب کہ مےجرسیف الدین کو 12سال کی قید بامشقت سنائی گئی ۔ انہو ںنے ےہ جرم تب انجام دےا جب وہ فوج سے سبکدوش ہوئے تھے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ادریس خٹک کے سزا کے فیصلے پر حیر انگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کے وکیل اور گھر والوں کو اند ھیرے مےں رکھا گیا ۔ اور مقدمہ بھی منصفانہ طریقے سے عمل مےں نہیں آیا ۔ اےیمنسٹی انٹرنیشنل کے مقدمے کے بارے میں معلومات بہت محدود ر ہیں۔ ان کے کیس کو سول عدالت مےں پےش کرنا چاہئے تھا۔