World has “no clear policy” on Afghanistan: Qatar FM

روم: قطری وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی کا کہنا ہے کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ابھی تک ایسی کوئی واضح پایسی وضع نہیں کی جس سے یہ طے کیا جاسکے کہ افغانستان میں موجودہ صورت حال سے کیسے نمٹنا ہے۔ ”روم ایم ای ڈی -میڈیٹرینین ڈائیلاگ “ میں محمد بن عبدالرحمن الثانی نے دنیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے لیے طالبان کے ساتھ رابطے کے لیے ایک منصوبہ بنانے کی کوششوں کا اعلان کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ اقتصادی پابندیاں اور افغانستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو منجمد کرنے سے معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے اور اس سے سوائے اس کے کہ دہشت گرد گروہوں کی بھرتیوں اور ان کی صلاحیتوں کو تقویت ملے گی،کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ وہ سمجھتے ہیں کہ فی الحال افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے واضح طریقے کا نہ ہونا اور امارت اسلامیہ کے ساتھ مفاہمت تک پہنچنے کے لیے بین الاقوامی برادری کا نہ ہونا اصل وجوہات میں سے ایک ہے قطری وزیر خارجہ نے بحیرہ روم کے مذاکرات کے ساتویں اجلاس میں اس عالمی رویہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی موجودہ معاشی صورتحال تشویشناک ہے، اور انہوں نے زور دیا کہ انسانی امداد کو سیاست کا رنگ نہیں دینا چاہیے۔”

انہوں نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ عالمی برادری کی طرف سے کوئی واضح حکمت عملی نہیں ہے جسے سلامتی کونسل یا اقوام متحدہ نے اپنایا ہے۔ چاہے انسانی ہمدردی کے نقطہ نظر سے، یا اقتصادی نقطہ نظر سے، یا سیاسی اور سلامتی کے نقطہ نظر سے۔ ہم سب کو اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ افغانستان کے لیے انسانی امداد کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے اور کسی سیاسی پیش رفت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ “افغانستان کے لوگوں کے لیے طالبان کی وجہ سے نقصان اٹھانا مناسب نہیں ہے۔”قطر کے اعلیٰ عہدے دار افغانستان کی کرنسی منجمد ہونے کے نتیجے کو افغانستان اور دنیا کے ممالک کے لیے خطرناک سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ افغانستان کے زرمبادلہ کے ذخائر منجمد ہونے سے معاشی بحران پیدا ہوگا اور دہشت گرد گروپوں کی بھرتی کی راہ ہموار ہوگی۔اقتصادی پابندیاں ہیں اور افغان کرنسی کو منجمد کر دیا گیا ہے۔

ایک سیاسی تجزیہ کار مقدم امین نے کہا کہ کابل کے موجودہ حکام اپنے لوگوں کو بینکوں میں ان کی جمع رقوم کی، جو واجب الادا ہے ادائیگی اور مدد کرنے سے قاصر ہیں۔ اور اس معاشی بحران کے باعث دہشت گرد گروہوں کی مضبوطی، بھرتی اور حملوں کے لیے افغانستان کی سر زمین کا استعمال ہو سکتا ہے۔ ہم عالمی برادری اور اپنے شراکت داروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کابل کے سقوط کے نتائج کا انتظار کیے بغیر اس مسئلے پر غور کریں اور افغانستان کے لوگوں کی مدد کریں۔اسلامی امارات کے نائب ترجمان ا حمد اللہ واثق نے کہا کہ عالمی برادری سے ہماری توقع ہے کہ افغانستان کا پیسہ جاری کیا جائے، جو کہ افغان عوام کا حق ہے، اور افغانستان کی نہ صرف اس شعبے میں بلکہ مختلف شعبوں میں بھی مدد کی جائے کیونکہ اسے حالت جنگ میں رہتے ہوئے متواتر چالیس سال ہو چکے ہیں ۔ “ملک حالت جنگ میں ہے اور اسے حمایت اور تعاون کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہر صمد کرمند نے کہا کہ عالمی برادری، یورپی ممالک اور جن ممالک نے افغانستان کی حمایت کی ہے، ان کا فرض ہے کہ وہ موجودہ حالات میں افغانستان کو تنہا نہ چھوڑیں اور افغانستان کو اس بنیادی معاشی مسئلے سے بچائیں، سیاسی کھیل نہ کھیلیں۔اسلامی امارات گذشتہ تین ماہ سے بر سر اقتدار ہے لیکن ابھی تک کسی ملک نے نہ صرف امارت اسلامیہ کو تسلیم نہیں کیا بلکہ عالمی بینکوں میں اس کے اربوں ڈالر کے اثاثے بھی منجمد کر دیے گئے۔