India signs trade and arms deals with Russia during Putin's visit to New Delhi

نئی دہلی: ہندوستان اور روس نے پیر کے روز دفاعی و تجارتی شعبے میں تعاون اور شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے کئی معاہدوں اور پروٹوکول پر دستخط کیے ہیں۔دفاعی ذرائع نے بتایا کہ ان سمجھوتوں، معاہدوں اور پروٹوکول پر سشما سوراج بھون میں فوج اور فوجی تکنیکی کمیشن سے متعلق بھارت-روس بین الحکومتی کمیشن کی 20ویں میٹنگ کے دوران تبادلہ خیال کیا گیا۔

جس کی صدارت وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے کی۔ اس دوران ان سمجھوتوں، معاہدوں اور پروٹوکول پر دستخط بھی کیے گئے۔پوتین کے ہمراہ روس کے وزیر دفاع اور وزیر خارجہ بھی ہندوستان آئے ہیں۔ دو طرفہ دفاعی و تکنیکی تعاون کے ساتھ باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان 2031تک نافذ العمل رہنے والے معاہدوں کے علاوہ2025تک سالانہ تجارت 30بلین ڈالر تک پہنچا دینے کا عزم بھی شامل ہے۔

دونوں ممالک کے وزرا کے درمیان یہ بالمشافہ مذاکرات وزیر اعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان سالانہ چوٹی کانفرنس سے پہلے ہوئے ہین۔دونوں فریقین نے ملاقات کے بعد کلاشنکوف سیریز کے چھوٹے ہتھیاروں کے معاہدے میں ترمیم کے پروٹوکول پر دستخط کیے۔ جس کی رو سے ہندوستان 6لاکھ کلاشنکوف رائفلوں کے حوالے سے بھی معاہدہ ہوا ۔ واضح ہو کہ روس نئی دہلی کے تزویراتی نظریے کو سمجھتا ہے اور ہندوستان کو ہر حال میں اپنا دوست سمجھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس دورے سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی اس دورے سے ہندوستان اور روس کے تعلقات کو بھی فروغ ملے گا۔آر وگنیش، ریسرچ اینالسٹ، منوہر پاریکر انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ اینالیسس کے مطابق، پوتن کے دورے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات اور انڈو پیسیفک خطے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔اور اب وہاں میجر جنرل ( سینٹر فار لینڈ وارفیئر اسٹڈیز )کے ریٹائرڈ پی کے چکرورتی نے کہا کہ روس کے صدر پوتن کے دورے سے ہندوستان اور روس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مزید بڑھے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان کو سخوئی اور ایٹمی آبدوزیں جیسے سامان حرب فراہم کرنے میں روس کا بڑا کردار ہے۔