Taliban allegedly evict citizens from their home on gun point

کابل:(اے یو ایس ) کئی دہائیوں سے افغانستان میں جاری جنگ کے ہر دور کے بعد نجی املاک پرحکومتی طبقے کا قبضہ اپنے پیروکاروں کونوازنے کے لیے دولت کے حصول کا ا ایک اہم ذریعہ بن جاتا ہے یہی طرز عمل طالبان نے گذشتہ اگست میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد اپنایا ہے۔ طالبان جنگجوؤں پر الزام ہے کہ وہ بندوق کی نوک پر لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال رہے ہیں۔تحریک طالبان کی جانب سے ان جائیدادوں کی من مانی دوبارہ تقسیم نے ہزاروں بے گھر افراد کو کھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پرمجبور کیا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں لامتناہی تنازعات جاری ہیں۔وہاں زمین کی ملکیت کا نظام اتنا غیر مربوط ہے کہ بہت کم لوگوں کے پاس اپنی زمین کی دستاویزات ہیں۔نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق سیکڑوں افغان خاندانوں کو نئے قوانین کے تحت اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبورکیا گیا ہے۔ یہ گھر اوراملاک ان لوگوں میں تقسیم کی جا رہی ہیں جو سابق حکومتی نظام کے خلاف مسلح جدو جہد کرتے رہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان نے اقتدار پر قبضے کے مختصر عرصے کے بعد تقریباً ایک ہزار خاندانوں کو قندھار کے رہائشی محلوں کو خالی کرنے پر مجبور کیا جو انہیں پچھلی حکومت نے فراہم کیے تھے۔ایک 40 سالہ افغان شہری غلام فاروق نے انکشاف کیا کہ کس طرح اسے طالبان نے بندوق کی نوک پر اس کے گھر سے گزشتہ ماہ نکال دیا تھا۔فاروق کی طرح ہزاروں افغانوں کو بھی ایسی ہی قسمت کا سامنا ہے۔ طالبان رہنماؤں اور جنگجوؤں کو قبضے میں لیے گئے گھر دیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اپنے جنگجوؤں کو تباہ حال معیشت اور نقدی کی کمی کی تلافی کرنے کے لیے ضبطی قوانین کا استعمال کر رہے ہیں اور انھیں دیہی علاقوں میں کھیتی باڑی اور شہری محلوں میں گھر دے رہے ہیں۔صوبہ تخار میں، جو طالبان کا ایک تاریخی گڑھ ہے ، جنگجوؤں نے لوگوں کو ان سرزمینوں سے بے دخل کر دیا جہاں وہ 40 سال سے زیادہ عرصے سے مقیم تھے۔

طالبان نے یہ کہہ کر بے دخلی کا جواز پیش کیا کہ پچھلی حکومتوں کی جانب سے آبادی میں زمین غیر منصفانہ طور پر تقسیم کی گئی تھی۔وسطی افغانستان میں جہاں اقلیتیں خاص طور پر شیعہ ہزارہ اقلیت رہتی ہے طالبان کی نئی حکومت کی خاموشی کے باعث مقامی رہنماو¿ں نے سینکڑوں خاندانوں کو بے دخل کر دیا ہے۔ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق، بے دخلی اور نقل مکانی نے ہزارہ اقلیت کے 2,800 سے زائد افراد کو متاثر کیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایشیا کے لیے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر پیٹریشیا گسمین نے کہا کہ جس کے پاس بندوق ہے اسے زمین مل جاتی ہے۔ یہ افغانستان میں ایک پرانی، جاری کہانی ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ طالبان کے مقامی رہنما زمینوں اور جائیدادوں پر قبضہ کر کے اپنے جنگجوو¿ں اور جنگ میں مرنے والوں کے اہل خانہ کو دے دیتے ہیں۔طالبان ملک پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے سے پہلے ہی جنگ کے دوران اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں زمینیں ضبط کر رہے تھے۔