Beijing warns US will 'pay the price' for Olympics diplomatic boycott

بیجنگ :چین نے 2022 میں بیجنگ میں ہونے والے سرمائی اولمپکس مقابلوں کا سفارتی بائیکاٹ کرنے کے امریکہ کے فیصلہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے انتباہ دیا ہے کہ اسے کھیلوںکا بائیکاٹ کرنے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی ۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڑاو لیجیان نے کہا ہے کہ چین ‘ ٹھوس جوابی اقدامات کرے گا لیکن انھوں نے ان اقدامات کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے منگل کو ایک پریس بریفنگ میں امریکہ پر عالمی کھیلوں میں سیاسی غیر جانبداری کے اصول کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مجوزہ بائیکاٹ کی بنیاد جھوٹ اور افواہ پر مبنی ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی انتہاہ کو پہنچ رہی ہے۔امریکہ چین پر سنکیانگ کے مغربی خطے میں اویغور مسلم اقلیت پر جبر اور ان کی نسل کشی کرنے کا الزام عائد کرتا ہے۔

چین ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔امریکہ نے پیر کے روز کہا تھا کہ وہ چین میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تشویش کی بنا پر اپنے سفارت کاروں کو بیجنگ نہیں بھیجے گا۔ لیکن اس بیان ہی میں یہ بھی کہا گیا کہ ‘اتھلیٹ’ (کھلاڑی) کھیلوں میں شرکت کے لیے بیجنگ جا سکتے ہیں اور انھیں مکمل سرکاری تعاون حاصل رہے گا۔