ICC prosecutor defends dropping US from Afghan war crimes probe

ایمسٹرڈم: بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے ارکان نے آئی سی سی کے آئین کے 22ویں اجلاس میں افغانستان میں طالبان اور داعش کے جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ٹربیونل کے اراکین نے افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات میں امریکہ کو شامل نہ کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلی دو دہائیوں میں بدترین جرائم طالبان اور داعش کی خراسان شاخ نے کیے ہیں۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پرازیکیوٹر برائے افغانستان کریم خان نے کہا کہ یہ فیصلہ شواہد کی بنیاد پر کیا گیا ۔ افغانستان میں نوعیت کے لحاظ سے بدترین جرائم جو حد سے تجاوز کیے ہوئے تھے داعش اور طالبان نے کیے تھے۔ دریں اثنا امارت اسلامیہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی تحقیقات کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں کوئی جنگی جرم نہیں کیا ہے۔

امارت اسلامیہ کے نائب ترجمان بلال کریمی نے کہا کہ امارت اسلامیہ نے افغانستان میں شہریوں کے خلاف کوئی جنگی جرائم نہیں کیا ہے۔پچھلے 20 سالوں میں، ہم نے صرف ایک جامع حکومت کے لیے جنگ لڑی ہے۔ اسی دوران استغاثہ نے آئی سی سی کے ججوں سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات جلد از جلد شروع کرنے کی اجازت دیں۔ لیکن دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں امریکی جنگی جرائم بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

مہدی نے کہا کہ افغانستان میں جنگ کے 40 سال کے دوران، یہ عدالتیں افغانستان میں جنگی جرائم کے مرتکب افراد کی مکمل اور جامع تحقیقات نہیں کر سکیں ۔ افضلی، بین الاقوامی تعلقات کے ماہر۔بین الاقوامی تعلقات کے ماہر احمد خان اندر نے کہا کہ افغانستان میں اپنی 20 سالہ موجودگی کے دوران، امریکی اور ناٹو فوجیوں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے، اور ٹربیونل کے اندر کچھ نزاکتیں ہیں جو ان جرائم کی تحقیقات سے روکتی ہیں۔بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 2006 میں افغانستان میں جنگی جرائم کی ابتدائی تحقیقات کا آغاز کیا۔ اور2017میں اس نے ججوں سے کہا کہ وہ مکمل تحقیقات کا اختیار دیں۔ اس کے بعد سابق افغان حکومت نے 2020 میں عدالت سے یہ کہتے ہوئے کہ حکومت خود اس معاملہ کو دیکھے گی اس کیس کی تحقیقات کو معطل کرنے کو کہا۔