Libyan court allows Khalifa Haftar back to presidential race

طرابلس:(اے یو ایس )طرابلس کی اپیل کورٹ نے لیبیا میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے معزو ل صدر معمر القذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے بعدال زاویہ عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے خلیفہ حفتر کو بھی 24 دسمبر کو ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کا اہل قرار دے دیا ۔

واضح ہو کہ کچھ امیدواروں کی اہلیت کے حوالے سے اپیلوں کی بھرمار ہونے اور ملک میں نمایاں ناموں کے اخراج کے بعد فوج کے کمانڈر خلیفہ حفتر کی قسمت کے بارے میں کئی سوالات پیدا ہوئے تھے۔ ایک مقامی عدالت کی طرف سے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نا اہل قراردیا گیا تھا۔تاہم مشرقی لیبیا کا یہ طاقتور شخص صدارتی دوڑ میں واپس آگیا ہے۔

ایک ہفتہ قبل الزاویہ شہر کی عدالت نے حفتر کو امیدواروں کی ابتدائی فہرست سے خارج کرنے کا حکم دیا تھا۔ انہیں انتخابات کی شرائط پر پورا نہ اترنے پر نا اہل قرار دیا تھا۔عدالت کے اس فیصلے پر زبردست قانونی تنازع شروع ہوا۔ بعض قانونی حلقوں اور قانونی ماہرین نے باور کرایا کہ صدارتی الیکشن سے متعلق فیصلے الزاویہ عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔ اس کے ساتھ ساتھ الزاویہ عدالت کے فیصلے کو اپیل کورٹ میں چیلنج کردیا گیا جس نے خلیفہ حفتر کی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔قبل ازیں سیف الاسلام قذافی بھی الیکشن کے لیے نا اہل قرار دیے گئے تھے مگر عدالت نے انہیں بھی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی تھی۔