One of suspected killers of Saudi journalist Khashoggi arrested in France

لندن: صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہونے کے شبہ میں سعودی عرب کے ایک شہری کو فرانس میں گرفتار کر لیا گیا ۔فرانسیسی اخبارات کے مطابق خالد العتیبی کو چارلز ڈیگال کے ہوائی اڈے سے منگل کے روز حراست میں لیا گیا۔خالد العتیبی ان 26 افراد میں شامل ہیں جن پر الزام ہے کہ انھوں نے استنبول کے سعودی عرب کے قونصل خانے میں جمال خاشقجی کو قتل کر کے ان کی لاش کو ٹھکانے لگانے میں حصہ لیا تھا۔ خالد العتیبی ترکی کو مطلوب26 سعودیوں میں سے ایک ہے۔

فرانسیسی ریڈیو آر ٹی ایل کے مطابق 33 سالہ خالد العتیبی جو سعودی عرب کے شاہی گارڈ رہ چکے ہیں اپنے اصلی نام پر سفر کر رہے تھے جب انھیں گرفتار کر لیا گیاخاشقجی جو سعودی حکومت پر تنقید کرنے والوں میں شامل تھے انھیں استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں اکتوبر 2018 میں قتل کر دیا گیا تھا۔سعودی عرب کا کہنا ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کے سابق صحافی انہیں سعودی عرب واپس آنے پر آمادہ کرنے کے لیے بھیجے گئے سرکاری اہلکاروں سے مارپیٹ کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔

جبکہ ترکی کے حکام کا کہنا ہے کہ خشوگی کو سعودی عرب واپسی پر آمادہ کرنے والے لوگوں نے سعودی حکومت کے اعلیٰ ترین سطح کے افراد کی ایما پر قتل کیا تھا۔اس قتل پر عالمی سطح پر زبردست احتجاج کیا گیا جس سے سعودی عرب کے حقیقی حکمراں ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کی شبیہہ بہت خراب ہوئی جبکہ سلمان اس بات سے قطعاً انکار کرتے ہیں کہ اس قتل میں ان کا کوئی کردار ہے۔