Sialkot incident: Religious Scholars to observe ‘day of condemnation’ on 10 Dec

اسلام آباد:(اے یو ایس ) پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علما نے اعلان کیا ہے کہ وہ 10 دسمبر کو سیالکوٹ میں سری لنکن شہری پریا نتھا دیاودھنہ کے پرتشدد ہجوم کے ہاتھوں قتل کے خلاف یوم مذمت کے طور پر منائیں گے۔علما کے وفد نے منگل کو اسلام آباد میں سری لنکا کے ہائی کمیشن کا دورہ کیا اور ملک کے ہائی کمشنر وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) موہن وجے وکرما سے اس واقعے پر اظہار تعزیت بھی کیا۔سری لنکا کے ہائی کمشنر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ضرورت کے وقت ہر بار ان کے ملک کی مدد کی ہے اور جواب میں سری لنکا نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ اس اندوہناک واقعے سے دونوں ممالک کے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

علما کی جانب سے جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کے مطابق ’یہ پوری صورت حال قرآن و سنت، آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان اور ملک میں رائج جرم و سزا کے قوانین کے سراسر خلاف ہے۔‘اعلامیے کے مطابق ’اس تکلیف دہ واقعے میں امید کی ایک کرن یہ تھی کہ نوجوان ملک عدنان نے اپنی جان کی پروا کئے بغیر اس قتل ہونے والے بے گناہ شخص کو بچانے کی بھرپور کوشش کی، اس نوجوان کا یہ اقدام قابل تحسین بھی ہے اور قابل تقلید بھی۔‘مفتی تقی عثمانی نے علما کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ میں جس طرح جنون کا مظاہرہ کیا گیا ہے، پاکستان میں کوئی ایسا طبقہ نہیں جو اس قتل کی مذمت نہ کرتا ہو۔ انھوں نے کہا اس واقعے نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ سری لنکا برادر ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ تعلقات ہیں۔ انھوں نے کہا ’ہم اس واقعے پر اپنے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور اس واقعے میں ملوث مجرموں کو سخت سزا دی جائے گی۔‘ان کے مطابق ’جو لوگ اس واقعے میں ملوث ہوئے اور جنھوں نے بغیر کسی وجہ کے ہمارے اس سری لنکن بھائی کو قتل کیا ہے، وہ بد ترین سزا کے مستحق ہیں۔‘تقی عثمانی نے حکومتِ پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ متاثرہ خاندان کو ان کا جائز معاوضہ دیں۔

وفاق المدارس العربیہ کے سربراہ علامہ حنیف جالندھری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’علما کا وفد دو اہم مقاصد کے لیے یہاں آیا ہے: ایک تو سیالکوٹ کے اندوہناک واقعے پر افسوس کے لیے اور دوسرا سری لنکا کی عوام اور حکومت اور متاثرہ خاندان سے اظہار یکجہتی کے لیے۔‘انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ’حکومت پاکستان مجرموں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کرے گی‘ اور اعلان کیا کہ آنے والے جمعے کو یوم مذمت کے طور پر منایا جائے گا، جس میں علما اقلیتیوں کے حقوق پر روشنی ڈالیں گے اور اس موضوع پر پر مسجد اور امام بارگاہ میں تقریر ہو گی۔وزیر اعظم کے مشیر برائے مذہبی ہم آہنگی طاہر اشرفی نے پاکستان کے چیف جسٹس سے گزارش کی ہے کہ اس واقعے کی سرعت سے سماعت کی جائے۔اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز نے کہا کہ ’ایک معصوم انسان کو قتل کیا گیا ہے اور بغیر ثبوت کے توہین مذہب کا الزام لگا کر ایک غیرشرعی حرکت کی گئی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’یہ واقعہ پیغام پاکستان کی قومی دستاویز سے بھی سراسر انحراف ہے۔

ان کے مطابق اس پیغام پاکستان کی دستاویز کو تمام مکاتب فکر اور مدارس بورڈ کی تائید حاصل ہے۔‘ان کے مطابق اسلام میں تشدد اور انتہا پسندی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔سابق وفاقی وزیر مذہبی امور صاحبزادہ حامد سعید کاظمی نے کہا کہ ’یہ مذہبی علما یہاں تعزیت کے لیے آئے ہیں مگر ہمارے پاس کہنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔‘ انھوں نے کہا ’یہ بہت ظالمانہ اقدام ہے۔ اس کی کوئی توجیہ پیش نہیں کی جا سکتی ہے۔‘حامد سعید کاظمی نے کہا ’جو ہوا اس پر ہم شرمندہ ہیں۔‘انھوں نے واضح کیا کہ وہ قتل ہونے والے سری لنکن شہری کی پاکستان کے لیے خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اس موقع پر جمیعت اہلِ حدیث کے سینیٹر ساجد میر نے بھی اس قتل کو ’ایک ظالمانہ اقدام‘ قرار دیا۔ ’ہمیں ہر سطح پر اس اقدام کی مذمت کرنی چاہئیے۔ ہماری ہمدردی سری لنکا کی حکومت اور عوام سے ہے۔‘انھوں نے بھی مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندان کو جتنا ممکن ہو سکے معاوضہ ادا کیا جائے۔

ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ علامہ ابوالخیر زبیر نے کہا کہ ’پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جس نے ایک شخص کو قتل کیا تو وہ پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’اس واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’اس قسم کے واقعات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسلام امن اور رواداری کا درس دیتا ہے۔‘پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ ملک میں ایسے قوانین لانے چاہییں جن سے ایسے کیسز کو جلد نمٹانے میں مدد مل سکے۔