Fears, needs of fleeing Afghans must be addressed: Akhundzada

کابل: امارت اسلامیہ کے رہنما ملا ہیبت اللہ اخندزادہ نے حکومتی اہلکاروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان لوگوں سے مذاکرات کریں جو سیکیورٹی اور اقتصادی چیلنجوں کی وجہ سے ملک چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ دوسرے ممالک کا سفر کرنے والوں کو سلامتی، اخلاقیات اور انسانیت سمیت کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔

ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ بیرون ملک جانے والوں کو کیمپوں میں برے اور نامساعد حالات، بعض متعصبانہ منصوبوں کی بنیاد پر روحانی اور اخلاقی اقدار کو خطرے میں ڈالنے، اسلام اور اسلامی نظام پر بہتان لگانے اور جعلی دستاویزات حاصل کرنے کے لیے مجبور کیے جانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قابلیت اور پیشہ ورانہ مہارت اور کام کی توانائی کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دریں اثنا، کچھ جو ملک چھوڑنا چاہتے ہیں، امارت اسلامیہ سے پناہ کے بحران کو روکنے کے لیے انہیں ملک میں روزگار فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ویس نامی گلوکار کا کہنا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر اور بڑی مشکل سے ایران گئے تھے لیکن ایرانی حکام نے انہیں واپس کر دیا۔ اس سفر کے برے تجربات کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ دوبارہ اس راستے پر جانا ناگزیر ہے۔ویس نے کہا ، “ہمارے پاس جو کچھ عرصہ پہلے تھا وہ نہیں تھا۔ ہم نے اپنا سب کچھ بیچ دیا اور ساری رقم خرچ کر دی اب بس زندگی گزر رہی ہے لیکن اب ہم مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہیں کہ کیا کریں گے اور کیا کھائیں گے۔ ہمیں دوبارہ دوسرے ملک جانے پر مجبور ہوناپڑے گا لیکن اب ہمارے پاس غیر قانونی طریقے سے سفر کرنے کے لیے ایک دھیلہ نہیں ہے۔”

اسلامی امارت کے نائب ترجمان احمد اللہ واثق نے کہا کہ امارت اسلامیہ کے سپریم لیڈر نے حکام اور گورنرز کو ان شہریوں کے، جو معاشی اور سیکورٹی مسائل کی وجہ سے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں، مسائل دیکھنے اور سننے کا خصوصی حکم دیا ہے ۔ انہیں سیکورٹی کی یقین دہانی کرائی جائے اور ان کے مسائل حل کیے جائیں۔”اس سے قبل ہیومن رائٹس واچ نے ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے ملکی سرحدوں پر افغان مہاجرین کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ مہاجرین کے ساتھ انسانی سلوک کریں۔