Rohingya refugees sue Facebook for $150 billion over Myanmar violence

میانمار:(اے یوایس ) میانمارکی مسلم اقلیتی برادری روہنگیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کی مالک کمپنی میٹا پلیٹ فارمز پر 150 ارب ڈالرز کے ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔روہنگیا کمیونٹی کے وکلا نے الزام لگایا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنی روہنگیا کے خلاف نفرت انگیز فیس بک پوسٹس کو ہٹانے میں ناکام رہی ہیں جن کو استعمال کرتے ہوئے، مبینہ طور پر، میانمار کے فوجی حکام اور ان کے حامیوں نے مسلم کمیونٹی کے خلاف پر تشدد کارروائیاں کی ہیں۔

کمیونٹی کی طرف سے وکلا نے پیر کو کیلیفورنیا میں ایک کلاس ایکشن مقدمہ دائر کیا جس میں کہا گیا ہے کہ میانمار میں فیس بک کی آمد سے نفرت انگیز تقریر، غلط معلومات اور تشدد پر اکسانے جیسے رجحانات کو ہوا ملی۔مقدمے میں کہا گیا ہے کہ یہ پوسٹس روہنگیا کے خلاف تشدد کا باعث بنیں اور ان سے ان کی برادری کی نسل کشی کے واقعات ہوئے۔ادھر لندن میں بھی روہنگیا کی جانب سے وکلا نے اس قسم کی قانونی چارہ جوئی کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا ہے۔خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق فیس بک کمپنی نے، جس نے اپنا نام اب ‘میٹا’ رکھ لیا ہے، فوری طور پر اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا۔

خیال رہے کہ ایسوسی ایٹڈ پریس سمیت میڈیا کمپنیوں کے ایک کنسورشیم نے ان الزامات کے متعلق فیس بک کی ترمیم شدہ داخلی دستاویزات کو حاصل کیا تھا۔روہنگیا کی طرف سے فیس بک کے خلاف مقدمے دنیا میں کہیں بھی بسنے والے اس برادری کے ان تمام افراد کی طرف سے دائر کیے گئے ہیں جو تشدد سے بچ نکلے تھے یا وہ تشدد میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین ہیں۔روہنگیا کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے مسلمان 2017 میں شروع ہونے والی تشدد کے لہر اور جبر سے بھاگ کر ہجرت پر مجبور ہوئے۔ ان میں سے دس لاکھ مہاجرین میانمار کے ہمسایہ ملک بنگلا دیش میں رہ رہے ہیں جبکہ تقریباً دس ہزار لوگ امریکہ پہنچے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین، جنہوں نے روہنگیا کے خلاف ہونے والے حملوں پر تحقیق کی ہے، کہتے ہیں کہ فیس بک نے اس برادری کے خلاف نفرت پھیلانے میں کردار ادا کیا۔

دائر کیے گئے مقدموں میں کہا گیا ہے کہ فیس بک کے استعمال ہونے والے ایلگوردھم نے مبینہ طور پر روہنگیا لوگوں کے خلاف نفرت انگیز باتوں کو پھیلایا۔ اور اس سلسلے میں روک تھام کے لیے فیس بک کمپنی نے، بقول ان کے، اس مواد کو جانچے کے لیے مقامی زبان بولنے والے اور سیاست کا فہم رکھنے والے ماہرین کی خدمات حاصل نہیں کی تھیں۔وکلا نے یہ بھی کہا ہے کہ فیس بک ایسے اکاونٹس بند کرنے اور ایسے صفحات اور پوسٹس کو ہٹانے میں ناکام رہی جن کے ذریعے روہنگیا برادری کے خلاف نفرت انگیز بیان کو پھیلایا گیا۔وکلا نے کیلی فورنیا میں دائر کیے گئے مقدمے میں کہا ہے کہ فیس بک کو میانمار میں سن 2011 میں متعارف کرایا گیا تھا، جس کے بعد دسیوں لاکھوں لوگوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہوئی۔

لیکن مقدمے کے مطابق فیس بک نے لوگوں کو آن لائن غلط اطلاعات کے خطرات سے متعلق خبردار نہیں کیا اور میانمار کی فوج روہنگیا کے خلاف چلائی جانے والی مہم میں مبینہ طور پر اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے۔مقدمے میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیس بک کو اس بات کا علم تھا کہ خطرناک مواد پوسٹ کرنے والے صارفین کو نوازنے اور مطلق العنان لوگوں کے بنائے گئے فیک اکاونٹس صارفین کو بنیاد پرستی کی طرف لے جائیں گے۔نتیجتاً ،مقدمے کے مطابق، فیس بک نے، مبینہ طور پر، روہنگیا آبادی کے خلاف جذبات کو ابھارا اور میانمار کی فوجی حکومت کو موقع دیا کہ وہ روہنگیا کے خلاف نسل کشی کی مہم چلا سکے۔