US Senate rejects bid to stop $650 million dollars arms deal with Saudi Arabia

واشنگٹن:(اے یو ایس ) امریکی سینیٹ نے سعودی عرب کو 650 ملین ڈالر کے دفاعی سامان کی فروخت کو روکنے کی قررارداد کو رد کر دیا۔

امریکی صدارتی دفتر وائٹ ہاﺅس کا کہنا تھا کہ صدر جو بائیڈن کے دفتر نے سینیٹ میں سعودی عرب کو میزائل فروخت پر پابندی کی قرارداد کی سختی سے مخالفت کی ہے۔امریکی وائٹ ہاﺅس کے بجٹ مینجمنٹ آفس کے ایک بیان میں بتایا گیا کہ سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملوں کے پیش نظر دفاعی سامان فروخت روکنے کے حوالے سے سینیٹ کی قرارداد سے اتحادیوں کے دفاع میں مدد کے امریکی صدر کے عزم کو نقصان پہنچے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ماہ نومبر میں سعودی عرب کو 650 ملین ڈالر کے عوض 280 جدید ترین فضا سے فضا میں نشانہ بنانے والے میزائل اور 596 میزائل ریل لانچرز کی سعودی عرب کو فروخت کی منظوری دی تھی۔رواں سال کے آغاز سے یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی سرحد پر درجنوں ڈرون حملے کئے ہیں۔ ان حملوں میں بارودی مواد سے بھرے ڈرون طیاروں کے ذریعے سے شہری اور سرکاری املاک کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے خلاف سعودی عرب کے دفاع کی ہر ممکن حمایت کریں گے۔امریکی سینیٹ کے ریپبلکن سینیٹررینڈ پال، ڈیموکریٹک سینیٹر برنی سینڈرز اور ریپبلکن سینیٹر مائیک لی نے ایک مشترکہ قرارداد میں سعودی عرب پر یمن کے فضائی اور بحری محاصرے کا الزام لگاتے ہوئے ریاض کو امریکی اسلحے کی فروخت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔