US warns Russia of crippling sanctions if it invades Ukraine

واشنگٹن:(اے یو ایس ) امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے اپنے روسی ہم منصب ولا دی میر پوتین کو ایک ورچوئل اجلاس میں انتباہ دیا کہ اگر روس نے یوکرین کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی کی تو امریکہ اس کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون نے وائٹ ہاوس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کی جانب سے جوابی طور پر سخت اقتصادی اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔جیک سلیون کے بقول، روس کی کسی جارحیت کی صورت میں ہم یوکرین کو اس سے بڑھ کر اضافی دفاعی سامان فراہم کریں گے، جو اس وقت فراہم کی جا رہی ہے۔ اور اپنے ناٹو اتحادیوں کو ان کی مشرقی سرحدوں پر اضافی دفاعی صلاحیت فراہم کریں گے ۔

جیک سلیون کا کہنا تھا کہ صدر بائیڈن نے روس کے صدر کو ایک اور راستے کی پیشکش بھی کی ہے۔ یعنی ”محاذ آرائی ترک کرنے اور سفارتکاری“ کی پیشکش۔واضح رہے کہ امریکہ کے صدر جوبائیڈن اور روس کے صدر ولادی میرپوتین نے منگل کو دو گھنٹے اور ایک منٹ تک وڈیو لنک کے ذریعے ایک ورچوئل سربراہ ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے، جب مغربی ملک اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ روس اپنے ہمسایہ ملک یوکرین پر حملے کے لیے تیار نظر آ رہا ہے۔وائٹ ہاو¿س کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر بائیڈن نے وسیع تر معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ صدر بائیڈن نے اس موقع پر امریکہ اور یورپی اتحادیوں کی جانب سے یوکرین کی سرحد کے نزدیک روس کی فوجوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور صدر پوتین پر واضح کیا کہ اگر روس نے کسی فوجی مہم جوئی کا آغاز کیا تو امریکہ اور اس کے اتحادی سخت معاشی پابندیوں اور دیگر اقدامات کے ساتھ جواب دیں گے۔

اس ورچوئل اجلاس میں صدر بائیڈن نے یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے لیے امریکہ کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور کشیدگی کم کرنے اور سفارتی ذرائع سے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔وائٹ ہاو¿س سے جاری بیان کے مطابق دونوں صدور نے اپنی اپنی ٹیموں کو یہ ذمہ داری دی ہے کہ وہ بات چیت جاری رکھیں اور امریکہ اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ قریبی مشاورت کے ساتھ یہ بات چیت جاری رکھے گا۔صدر بائیڈن نے اس موقع پر روس اور امریکہ کے درمیان ا سٹریٹیجک حکمت عملی کے استحکام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں صدور کے درمیان ایران سمیت علاقائی مسائل پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں صدور کے درمیان دو گھنٹے اور ایک منٹ تک گفتگو جاری رہی۔

اس سے قبل خبر رساں ادارے رائٹرز نے روسی ٹیلیو یژن کے حوالے سے بتایا کہ ویڈیو فوٹیج جاری کی ہے اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گفتگو کے آغاز میں صدر بائیڈن اور صدر پوتین ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ انداز میں خیر مقدمی جملوں کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ اس ورچوئل اجلاس کے بارے میں سخت مکالمے کی توقع کا اظہار کیا گیا تھا۔صدر بائیڈن نے اپنے روسی ہم منصب سے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ان کے درمیان اگلی ملاقات بالمشافہ ہو گی۔امریکہ اور مغربی ممالک کے عہدیداروں کو روس کی جانب سے یوکرین کی سرحد کے نزدیک فوجوں میں اضافے پر تشویش ہے۔ ان کو خدشہ ہے کہ فوجوں کی سرحد پر تعیناتی اور ان میں اضافہ سابق سوویت یونین کے پڑوسی ملک یوکرین پر روس کے حملے کا اشارہ ہو سکتا ہے۔

روس نے یوکرین کے ایک جزیرہ نما علاقے کریمیا کو سال 2014 میں اس وقت اپنے ساتھ ضم کر لیا تھا جب یوکرین کے روس نواز صدر کو عوامی احتجاج کے سبب اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ اس کے علاوہ روس یوکرین کے مشرق میں علیحدگی پسندوں کی تحریک کی بھی حمایت کرتا ہے۔دوسری جانب روس جارحانہ ارادوں سے متعلق مغرب کی جانب سے ایسے خدشات پر مبنی مہم کی تردید کرتا ہے۔یہ واضح نہیں ہے کہ آیا روس کی فوجوں میں اضافہ کسی حملے کا بڑھتا ہوا خطرہ ہے یا یہ اقدام امریکہ اور ناٹو اتحادی ممالک پر دباو¿ ڈالنے کے لیے ہے کہ وہ یوکرین کے اندر فوج اور اسلحہ بھجوانے سے گریز کریں اور یوکرین کے ناٹو میں ادغام کے منصوبے بھی ترک کر دیں۔