Yemen, US officials accuse Iran of imperiling peace efforts in Yemen

ریاض:(اے یو ایس ) یمنی اور امریکی حکام نے حکومت ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ حوثیوں کو اسلحہاور تربیت دے کر یمن میں جنگ کو اور طول دے رہا ہے۔ میڈی ٹرینین ڈائیلاگ کے دوران بات کرتے ہوئے یمن کے وزیر خارجہ احمد عود بن مبارک اور یمن میں خصوصی امریکی ایلچی ٹم لینڈر کنگ اس پر متفق تھے کہ ایران نے یمن میں منفی کردار ادا کیا ہے اور حوثی جنگ ختم کرنے کے لیے کوئی امن معاہدہ کرنے تیار نہیں ہیں۔

قبل ازیں سعودی عرب میں امریکی مشن نے پیر کو ریاض پر حوثیوں کے حملے کی “سخت ترین الفاظ میں” مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثیوں کے حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امن کے لیے تیار نہیں ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور سعودی اتحادی کے ساتھ کھڑے ہیں ۔امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا سعودی عرب کی سرزمین پر ڈرون حملوں سے حوثیوں کے جنگی عزائم کا کھل کر اظہار ہوتا ہے۔ وہ امن کے لیے تیار نہیں ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم ایک بار پھر حوثیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تشدد بند کریں۔انسانی امداد کی بلا تعطل تقسیم کی اجازت دیں، اقوام متحدہ کی سرپرستی میں سفارتی کوششوں میں حصہ لیں، تنازعات کو ختم کریں اور یمنی عوام کو امن اور سکھ کا سانس لینے کا موقع دیں۔منگل کے روزاتحادی فوج کی مشترکہ کمان نے یمن میں حوثیوں کے تباہ ہونے والے ڈرون کے ملبے کی تصاویر کا ایک سیٹ شائع کیا جسے یمن کی سرزمین پر مار گرایا گیا تھا۔منگل کی صبح عرب اتحاد نے صنعا میں قانونی فوجی اہداف پر بمباری کا اعتراف کیا تھا۔ عرب اتحاد کا کہنا تھا کہ ہم نے صنعا کے اندر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے منسلک مقامات کو تباہ کر دیا۔