Qatar, Turkey extend currency swap deal for another 3 years

دوحہ:(اے یو ایس ) قطر اور ترکی نے اپنے مرکزی بنکوں کے درمیان کرنسی کے تبادلے کے معاہدے میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔ایک مشترکہ بیان کے مطابق دونوں ممالک نے اپنے مرکزی بنکوں کے درمیان ترک لیرا اور قطری ریال کے کرنسی تبادلے کے انتظام میں توسیع اور ترمیم سے متعلق معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کیا ہے۔

یہ اعلان ترک صدر رجب طیب اردوغان کے دورقطر کے موقع پر دوحہ میں کیا گیا جہاں انھوں نے قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کی اور معیشت سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔کرنسی تبادلے کا یہ معاہدہ 2018 میں طے پایاتھا اور اس میں مئی 2020 میں پہلی مرتبہ توسیع کی گئی تھی۔اس کی مجموعی حد ترک لیرا اور قطری ریال کے مساوی 5 ارب ڈالرسے بڑھا کر 15 ارب ڈالر کردی گئی تھی۔

ترکی میں گذشتہ ہفتے افراط زر کی سالانہ شرح 20 فی صد سے بھی بڑھ گئی اور یہ گذشتہ تین سال میں سب سے زیادہ ہے۔ترکی میں لیرا کی قدرمیں کمی سے اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، رواں سال کے آغاز سے لیرا کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں 45 فی صد سے زیادہ گرچکی ہے۔ترکی کا کرنسی بحران اب ماضی کے مقابلے میں زیادہ شدید ہوچکا ہے۔اس کا تجربہ ترکی کو 2018 میں اس وقت ہوا تھا جب اس نے سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کردیے تھے۔امریکا کے قریبی اتحادی ترکی اور قطر حالیہ دنوں میں اقتصادی اور سیاسی شراکت دار بن گئے ہیں۔

صدر اردوغان کی حکومت نے 2017 میں چار عرب ممالک کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ کے دوران میں دوحہ کی حمایت کی تھی اور بالخصوص ان الزامات پر قطر کی حمایت کی تھی جو اس کے خلاف بنیاد پرست اسلام پسندوں کی حمایت کے ضمن عائد کیے گئے تھے۔تاہم اس نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔اس کے علاوہ قطر خلیجی عرب ممالک کے سخت حریف ایران کے بھی بہت قریب آگیا تھا۔