US-led combat mission in Iraq ends, shifting to advisory role

واشنگٹن:(اے یو ایس ) امریکا کی قیادت میں غیرملکی افواج نے عراق میں اپنا جنگی مشن ختم کردیا ہے۔اب ملک میں موجود غیرملکی فوجی تربیتی مشن انجام دیں گے اور مشورے کا کردارادا کریں گے۔عراق کے قومی سلامتی کے مشیرقاسم العراجی نے جمعرات کو ٹویٹر پراطلاع دی ہے کہ جنگی مشن مقررہ وقت سال کے اختتام سے قبل ہی ختم کردیا گیا ہے اوراب فوجیوں کا عراق سے باقاعدہ انخلا ہوجائے گا۔

امریکی صدر جو بائیڈن اور عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے جولائی میں عراق میں امریکا کے لڑاکا مشن کو 2021 کے آخرتک باضابطہ طور پر ختم کرنے کے معاہدے پر مہرتصدیق کی ثبت کردی تھی۔مغرب کے سکیورٹی اور سفارتی حکام کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کو انخلا قرار دینے کا عمل گمراہ کن ہے کیونکہ عراق میں تعینات افواج کی تعداد میں بہت کم تبدیلی آئی ہے۔امریکا نے عراق میں 2020 سے اب تک تقریباً 2500 فوجی تعینات رکھے ہوئے ہیں۔مغربی حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ ترفوجی گذشتہ کچھ عرصے سے صرف میزبان ملک کی سکیورٹی فورسز کو تربیت دینے اورمشاورت کا کردارادا کررہے ہیں۔

امریکا کی قیادت میں فوجی مشن نے گذشتہ برسوں کے دوران میں داعش کی باقیات کا مقابلہ کرنے پرتوجہ مرکوز کررکھی ہے۔داعش نے 2014 میں عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کرلی تھی۔امریکا نے اس دہشت پسند گروہ کے خلاف فوجی مہم کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد تشکیل دیا تھا اوراس کے تحت 2015 میں عراق میں اپنے ایک نئے جنگی مشن کاآغازکیا تھا۔اس بین الاقوامی اتحاد،عراق کی سکیورٹی فورسز اور ان کی اتحادی ایران نوازشیعہ ملیشیاو¿ں نے داعش کو شکست سے دوچار کیا تھا اور اس کے زیرقبضہ علاقے واگزار کرالیے تھے۔