Rights of Afghan women, girls ‘under attack’: UN

نیو یارک:اقوام متحدہ نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (اوسی ایچ اے) نے ٹویٹ کیا کہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کو اب مزید مدد کی ضرورت ہے اورافغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

انہیں ان کے بنیادی حقوق اے محروم کر دیا گیا ہے اور انہیں اب پہلے سے کہیں زیادہ ہماری یکجہتی اور حمایت کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں ایک کروڑ 18لاکھ خواتین اور لڑکیوں کو فوری طور پر انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ وہ خواتین اور لڑکیوں کو خوراک، صحت اور تعلیم کی خدمات، معاش کے مواقع اور تحفظ کی خدمات فراہم کر کے اپنے امدادی عمل کو تیز کر رہا ہے۔تاہم گزشتہ حکومت کے خاتمے کے بعد سے خواتین کو تعلیم اور ملازمت پر سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔دوسری جانب گزشتہ رات کئی خواتین نے کابل میں رات گزاری جس کو وہ اپنی آزادیوں سے محروم قرار دیتی ہیں۔

ان خواتین نے ”کینڈل فار فریڈم“ کے نام سے ایک پارٹی کا اہتمام کیا۔ادھر امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خواتین کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے بیان کو بے بنیاد قرار دیا۔ مجاہد نے ٹویٹ کیا کہ امارت اسلامیہ کے بر سر اقتدار آنے کے بعد سے تمام لوگوں کو حقوق حاصل ہیں اور خواتین کے حوالے سے اقوام متحدہ کی رپورٹ فرضی اور جھوٹ معلومات پر مبنی ہے ۔