Afghanistan’s assets should be eleased: US Reps

واشنگٹن:امریکی ایوان نمائندگان کے دو ڈیموکریٹس اور ایک ریپبلکن رکن نے صدر جو بائیڈن کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں انسانی تباہی کو روکنے کے لیے افغانستان کے منجمد زرمبادلہ کے ذخائر جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ضرورت مند افغانستان کے لوگوں کی مدد کرنا نہ صرف امریکہ کی اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ یہ امریکہ کی سلامتی میں بھی معاون ہے۔خط کے ایک حصے میں کہا گیا کہ جب آخری امریکی فوجی افغانستان سے نکلا تو امریکہ نے افغانستان کو تنہا نہ چھوڑنے کا عہد کیا۔ یہ ایک غلطی ہے جو ہم پہلے ہی کر چکے ہیں اور اس کے ہماری اور افغانستان کے لوگوں کی سلامتی کے لیے سنگین نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ہمیں اپنے وعدے پر قائم رہنا چاہیے اور وہ کرنا چاہیے جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ گزشتہ 20 سالوں میں ہونے والی پیش رفت ضائع نہ ہو۔

مکتوب مں مزید کہا گیا ہے کہ افغان عوام کی مدد کرنا محض ہماری اخلاقی ذمہ داری ہی نہیں ہے بلکہ افغانستان کو ایک بار پھر ہمارے دشمنوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکنا ہمارے قومی مفاد میں بھی ہے ۔دریں اثناامارت اسلامیہ نے امریکی ایوان نمائندگان کے ان اراکین کی اس تحریک کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ افغانستان کے منجمد اثاثوں کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

امارت اسلامیہ کے نائب ترجمان انعام اللہ سمنگانی نے کہا کہ افغانستان کے منجمد اثاثے افغان حکومت اور عوام کا بنیادی حق ہیں، اور معاشی بحران سے نکلنے اور انسانی تباہی کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ایک سیاسی تجزیہ کار عبدالحق حماد نے کہا کہ یہ ایک اچھا اقدام ہے۔ نہ صرف امریکی ایوان نمائندگان کے اراکین بلکہ عالمی برادری بھی افغان عوام کی منجمد رقوم کی رہائی کے لیے امریکا پر دباؤ ڈالے۔دریں اثنا ملک کے متعدد ماہرین اقتصادیات نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ امریکہ پر دباؤ ڈالے کہ افغانستان کے منجمد اثاثے جاری کرے ۔