Islamic Emirate delegation to vsit Norway

کابل:طالبان کے ترجمان اعلیٰ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ امریکی قیادت والی ناٹو افواج کے خلاف20سالہ جنگ کے اختتام پر افغانستان میں طالبان کے بر سر اقتدار آنے کے بعد سرزمین یورپ پر طالبان کے پہلے باضابطہ مذاکرت جنگ کے ماحول کو بدلنے میں معاونت کرے گا۔واضح ہو کہ امریکی فوجوں کی واپسی کے فوراً بعد سخت گیر طالبان نے اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔لیکن ابھی تک طالبان حکومت کو کسی ملک نے یہ کہتے ہوئے تسلیم نہیں کیا کہ وہاں 1996تا2001کے دوران جب طالبان افغانستان میں بر سر اقتدا تھے وسیع پیمانے پر بڑی بے دردی سے انسانی حقوق کو پامال کیا گیا تھا۔

مجاہد کا کہنا ہے کہ اسلامی امارات نے مغربی دنیا کے مطالبات تسلیم کر لیے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ تمام ممالک بشمول یورپی ممالک کے ساتھ سفارت کاری کے توسط سے ہمارے تعلقات مستحکم ہوں گے۔ ترجمان نے کہا کہ کابل کا وفد امریکہ، یورپی یونین کے نمائندوں اور متعدد افغان سیاسی شخصیات سے بات چیت کرے گا۔امارت اسلامیہ کے نائب ترجمان انعام اللہ سمنگانی نے کہا کہ اس دورے کے دوران امارت اسلامیہ افغانستان کا وفد امریکی حکام کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے نمائندوں اور بعض افغان شخصیات سے بھی مختلف امور پر بات چیت کرے گا۔ادھر ناروے کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ دو روز میں افغانستان پر ایک اجلاس کی میزبانی کرے گی۔

ناروے کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ناروے کے حکام اور ان کے اتحادیوں سے ملاقات کے علاوہ طالبان کے نمائندے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں اور افغان صحافیوں سے بھی ملاقات کریں گے۔ناروے کی وزارت خارجہ نے کہا کہ “ان ملاقاتوں کا مطلب طالبان کو قانونی حیثیت دینا یا اسے تسلیم کرنا نہیں ہے، لیکن ناروے انسانی حقوق کی صورتحال اور معاشرے میں خواتین کی شرکت کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ طالبان کی حمایت کے لیے انسانی ہمدردی کی کوششوں کو تقویت دینے کے لیے طالبان سے بات کرنا چاہتا ہے۔ ناروے کی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس ملاقات میں لڑکیوں کی تعلیم، انسانی حقوق اور افغان معاشرے میں خواتین کے کردار سمیت دیگر امور پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔