How to make married life happy

تحریر: اظہراقبال مغل، پاکستان

ایک مشہور قول ہے کہ میاں بیوی ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں ان میں سے ایک پہیہ بھی کام کرنا چھوڑدے تو گاڑی چلنا مشکل ہو جاتی ہے زندگی کی گاڑی چلانے کیلئے میاں بیوی کا توازن ہونا نہائت ضروری ہے۔ میاں بیوی کا رشتہ بہت ہی مضبوط رشتہ ہے یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو زندگی بھر ساتھ نبھانے والا ہے جب انسان کی شادی ہو جاتی ہے تو ماں بہن بھائی باپ جو کہ انسان کے سب سے قریبی رشتے ہوتے ہیں وہ پیچھے ہو جاتے ہیں اور جو سب سے زیادہ پائیدار اور قریبی رشتہ ہوتا ہے وہ میاں بیو ی کا ہوتا ہے ہر دکھ سکھ کی ساتھی بیوی ہوتی ہے اسی طرح ایک عورت بھی جب اپنے تمام قریبی رشتوں کو چھوڑ کر اپنے شوہر کے گھر آجاتی ہے تو اس کا یہی گھر ہوتا ہے مرنے کے بعد ہی اسے اس گھر سے چھٹکارا ملتا ہے ۔اس سے پہلے تب ہی عورت ماں باپ کے گھر جاتی ہے جب میاں بیوی میں اختلافات بڑھ جائیں ورنہ میاں بیوی کا رشتہ بہت ہی مضبوط رشتہ ہے جو کمزور پڑ سکتا ہے لیکن ختم تب تک نہیں ہو سکتا جب تک میاں بیوی میں ایک دوسرے کا احساس ختم نہ ہو، جب بیوی میاں کا احساس کرتی ہے تو مرد جان تک نچھاور کرنے کو تیار ہوجاتا ہے اسی طرح جب شوہر بیوی کا احساس کرتا ہے اس کا ہر طرح سے خیال رکھتا ہے تو بیوی دل و جان سے اس پر نچھاور ہوجاتی ہے اور سب کچھ قربان کر دیتی ہے اپنے ان رشتوں کو بھول جاتی ہے جن سے اس کی بہت گہری وابستگی ہوتی ہے ۔

میاں بیوی کا رشتہ تب ہی مضبوط رہ سکتاہے جب یہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھروا دینے کے بجائے درگزر کر دیتے ہیں تو ان کی ازواجی زندگی بہت ہی حسین بن جاتی ہے لیکن جب شوہر عورت کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تنقید کرتا ہے تو عورت بھی اس کے بدلے میں بہت ساری ایسی باتیں کر جاتی ہے جس سے مرد کو سخت تکلیف ہوتی ہے اسلیئے مرد اور عورت دونوںکو ہی ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیئے جو بات وہم یا شک کا بیج بوئے اسے وہی ختم کر دینا چاہیئے یا اسے فوری کلیئر کر لینا چاہیئے اس طرح میاں بیوی کی ازواجی زندگی حسیں ترین بن سکتی ہے اگر ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کو رائی پہاڑ بنائیں گے عورت کو ڈی گریٹ کرنے کی کوشش کریں کبھی نمک کم ہے مرچ زیادہ ہے گھی زیادہ ہے ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں جو دوریاں بڑھائیں ان کو جڑ سے ہی ختم کردینا چاہیے باہمی تعاون بہت ضروری ہے میاں بیوی کو ایک دوسرے کو مکمل طور پر سمجھ لینا چاہیئے بیوی کو چاہیئے کہ شوہر کے مزاج کو سمجھے اسے کیا پسند ہے کیا پسند نہیں کیسی باتوں کو پسند کرتا ہے کھانے میں کیا پسند کرتا ہے کس بات سے غصہ کرتا ہے کس بات سے خوش ہوتا ہے اسی طرح مرد کو بھی اپنی بیوی کا پتہ ہونا چاہیئے کہ اس کا مزاج کیسا ہے کیا پسند ہے اس کو کس بات پر غصہ آتا ہے کس بات سے اس کو چڑ ہے وہ بات نہ عورت مرد کے سامنے کرے اور مرد عورت کے سامنے نہ کرے شوہر اور بیو ی کی لڑائی میں جو قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں دونوں کے درمیاں لڑائی کروانے میں ان کا بہت اہم ہاتھ ہوتا ہے ۔

شوہر کو اکثر یہ شکوہ رہتا ہے میرے ماں باپ کی خدمت نہیں کرتی میری بہن بھائیوں کا خیال کیوں نہیں کرتی تو اس کے لیئے تھوڑا وقت چاہیئے ہوتا ہے اگر کوئی ملازم بھی رکھتے ہیں تو اسے کام سیکھنے میں ٹائم لگتا ہے اگر آتے ہی اس پر نقطہ چینی شروع ہو جائے بات بات پر طعنے دئیے جائیں تو ایک وقت آتا ہے ملازم بھی یا تو کام چھوڑ دیتا ہے یا آگے سے زبان چلانے لگتا ہے اصل میں جب کوئی بھی نئی نویلی دلہن آتی ہے تو اس کے پیچھے جو لوگ ہوتے ہیں ان کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے اسے بگاڑنے میں جیسے ماں بہن یا شادی شدہ سہیلی کہتی ہے کہ تمہیں کوئی بھی فالتوکام کرنے کی ضرورت نہیں تم ملازمہ نہیں کسی کی اسی طرح سسرال والوں کا بھی رویہ کچھ کم نہیں ہوتا بہو کے آنے سے سارے کام چھوڑکر بیٹھ جاتے ہیں کہ ان کو ایک نئی ملازمہ مل گئی ہے وہ خود ہی کام کرے گی پہلے دن سے ہی نفرت کا بیج بو دیا جاتا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک تنا ور درخت بن جاتا ہے میاں بیوی کو ہمیشہ رشتے داروں کی باتوں پر بالکل توجہ نہیں دینی چاہیئے صرف اپنے تعلق کو مضبوط کرنا چاہیئے جب میاں بیوی کا آپس میں تعلق مضبوط ہوگا تو باہر والا جتنی مرضی کوشش کر لے اسے کمزور نہیں کر سکتا لیکن اس کے برعکس ان دونوں کا آپسی تعلق کمزور ہوگا تو ہر بندہ اسے فائدہ اٹھاتے ہوئے مزید کمزور بنانے کی کوشش کرے گا آپ نے دیکھا ہو گا جب کوئی بھی فصل حاصل کرنے کیلئے زمین میں بیچ بویا جاتا ہے تو فصل کے ساتھ ساتھ بہت سارے خود رو پودے اگ آتے ہیں جو اس فصل کیلئے نقصان ددہ ثابت ہوتے ہیںاگر ان کو ختم کردیا جائے تو فصل کی پیداوار اچھی ہو جاتی ہے اسی طرح ازواجی زندگی میں شک بدگمانیاں اس خود رو پودوں کی طرح ہوتے ہیں اگر ان کو بروقت ختم نہ کیا جائے تو فصل کی جگہ ان خود رو پودوں کی نشونما بڑھ جاتی ہے اور فصل کو شدید نقصان پہنچتا ہے میاں بیوی اگر اپنی زندگی ے اصول بنا لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان میں لڑائی جھگڑوں کے جنم ہو لڑائی جھگڑوں کا جنم تب ہی ہوتے ہے جب میاں بیوی ان کو دل دماغ میں جگہ دیتے ہیں اگر لڑائی جھگڑون کا خاتمہ کرنا ہے تو میاں بیوی کو ایک دوسرے کا احساس کرنا ہوگا دنیا میں جتنے بھی کامیاب میاں بیوی ہیں ان کی خوشگوار زندگی کا راز یہی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو بہت عزت احترام دیتے ہیں ایک دوسرے کا بہت زیادہ احساس کرتے ہین اس دنیا کا نظام ہے جو آپ کسی کو دیتے ہیں وہی واپس لیتے ہیں۔اگر میاں بیوی ایک دوسری کو عزت دیں گے تو بدلے میں عزت ہی ملے گی اور ا ن کے بچے بھی ان کی عزت کریں گے ۔