Khalsa :Personal lifestyle as well as Model of a welfare state

ڈاکٹر جگموہن سنگھ راجو( ریٹائر آئی اے ایس افسر)

ہم سب ایک مثالی کلیان کاری راجیہ کی خواہش رکھتے ہیں۔ بھارتیہ آئین کے معمار باباصاحب ڈاکٹر بھیم راو¿ امبیڈکر نے ایک مثالی سماج کے سنکلپ کے بارے پوچھے جانے پر واضح طور پرجواب دیا تھا ”کہ اگر تم مجھ سے پوچھو ، میرا مثالی سماج آزادی، برابری اور بھائی چارے پر مبنی ہوگا۔ ”ڈاکٹر امبیڈکر نے بعد میں اس مثالی سماج کی حصولیابی کو 26 جنوری 1950 کو بھارت میں نافذ کئے گئے آئین میںبنیاد کے طور پر لیا ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پنجاب نے امبیڈکر صاحب کی جانب سے سجھائے یاتصور کئے گئے ایسے سماج کے قیام کو تین صدیوں پہلے دشمیش پتا سری گورو گوبند سنگھ جی کے ذریعے روپ مان کئے گئے خالصے کی شکل میں محسوس کیاتھا۔ خالصہ ذاتی طرززندگی کے ساتھ ساتھ ایک کلیان کاری راجیہ(ویلفیئرا سٹیٹ) کا ماڈل بھی ہے۔ 1699 کی بیساکھی کو خالصے کی تشکیل کرکے سری گورو گوبند سنگھ جی نے ایک جدید سماجی نظام کو جنم دیا۔ جو ذات پات اور اس سے جڑی خاص طور پر سماجی عدم مساوات بے انصافیوں کے خاتمے کی طرف منسوب تھی ۔ اس کا احساس پیدا کرکے ایک عالمی سطح کا مربوط بھائی چارہ ہے جو جمہوریت، مساوات، انصاف، وقار اور حب الوطنی پر مبنی ہے۔

یکسانیت سے بھرپور خوشحالی اور کوآپریٹو لائف پر زور دینے کے ساتھ خالصہ وہ خاکہ ہے جس پر جدید فلاحی ریاست نے ترقی کی ہے۔ بھارت کا آئین بھی خالصے جیسے سہج اور جامع سماج کا تصور کرتا ہے۔سری گورو نانک دیو جی کے تین سنہری آدرش -‘کرت کرو’، ‘ونڈ چھکو’، ‘ نام جپو ‘ ہی خالصے کے بنیادی اصول ہیں۔ گوربانی میں کرت کو ترجیح حاصل ہے۔ زندگی کو باوقار طریقے سے گزارنے کے لئے کام کرنے کی نصیحت ہے۔ یہاں کام کا مطلب مزدوری یا غلامی نہیں ہے۔ آزادی، مہارت، کمال، خود مختاری ، اورخود اعتمادی کو ظاہر کرنا ہونے کی وجہ سے کرت ایک مجموعی اصول ہے ۔سب سے اہم کام سماج کو سست روی سے بچاتا ہے۔سست روی سب سے خطرناک دیمک ہے جو سماج کو آہستہ آہستہ تباہ کر دیتا ہے۔ سستی انسان کو اچھے کاموں سے دور کرتی ہے، علم کو نظر انداز کرنے کے علاوہ انسان کو ان کی مذہبی رسومات میں رکاوٹ ڈالتی ہے اور تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ غربت مالی مشکلات کو دعوت دیتی ہے۔جب بھی انسان کام سے پرہیز کرے گا اس کو معاشی بحران کا سامنا کرنا ہو گا۔ معیشت کے منفی ہونے سے زندگی کی بنیادی ضرور تیں پوری نہیں ہوں گی۔

خوشحالی دور دوڑے گی اور زندگی کے معیار کا نقصان،غریبی ، غربت، بیماری اور جرائم بڑے پیمانے پر ہوجاتے ہیں۔ سماج کابے چینی اور تناو¿ سے دو چار ہونا فطری امر ہو جاتا ہے۔ جو کام نہیں کرتے اگرچہ خالی رہتے ہیں وہ بے روزگار کاشکار ہوجاتے ہیں۔ ایک سست انسان کے ساتھ نشہ خوری، قانون توڑنے ، تشدد اور جرائم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انہیں رسوائی، بدنامی اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کام، بے کارگی کا واحد توڑ ہے۔ لیکن کام کو ذات پرستی سے بہت بڑا خطرہ رہتا ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر کا ماننا ہے کہ ذات پات لوگوں کو کام سے دور رکھتی ہے۔ سماج کو کام مشق کے لئے ایک شخص کو اپنی اہلیت کے مطابق اپنا پیشہ چننے کی آزادی ہونی چا ہئے۔ڈاکٹر امبیڈکر کے مطابق اس اصول کی روایتی ذات پات کے نظام میں خلاف ورزی کی مضبوط گنجائش ہے۔ کیونکہ کام کرنے والے لوگوں کو حاصل مہارت یا صلاحیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کے روایتی سماجی اصل کی بنیاد پر تفویض کئے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر امبیڈکر یہ دلیل دیتے ہیں کہ ذات پات کے نظام کے تحت بہت سارے لوگ ایسے پیشوں میں لگے ہوئے ہیں جن میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ نسل در نسل وہ مل-موتر کی صفائی ،جوتیوں کی مرمت مزدوری وغیرہ وہ معمولی یا گھٹیا درجے کے پیشوں میں غرق رہتے ہیںجنہیںتاریخی اور سماجی طور پر توہین آمیز سمجھا جاتا ہے معمولی اور بدنامی کی وجہ سے بہت سے لوگ آج ان پیشوں کو اپنانے کی بجائے کام نہ کرنا پسند کریں گے۔ اس لئے کام کے فورغ پانے کے مان اور سنمان ایک ما قبل والے شرط ہیں۔’ونڈ چھکو’یا یکسانیت کے ساتھ اشتراک کا اصول وقتی ، اتحاد ،حصے داری اور یوگدان کو شامل کرنے والا ایک طاقتور سماجی نقطہ نظر ہے۔

ای میل:jagmohansraju@yahoo.com