Standard of honesty and integrity is now changed

شاہد ندیم احمد (پاکستان)

ایک زمانہ تھا کہ جب عام لوگوں میں اخلاقی قدروں کا شعور بیدار تھا ،اگرکسی محلے میں کوئی ایسا فرد ہوتا کہ جو رشوت و حرام کی کمائی کے حوالے سے مشہور ہوتا تو لوگ اس سے کتراتے تھے ، اس زمانے میں عزت کا معیار دولت کے بجائے اعلیٰ خاندان، خوش اخلاقی اور ایمانداری ہوتی تھی،اس کے بعدمعاشرے میں جیسے اخلاقی قدریں ڈھیلی پڑتی گئیں، عزت و شرافت کے معیارات بھی تبدیل ہو گئے،آجکل اعلیٰ خاندان،شرافت کی جگہ دولت نے لے لی ہے ، معاشرے میںدولت مند اشرافیہ جتنا مرضی لوٹ کھسوٹ کرے ،ان کے مقام میں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ،اس لیے ہی کرپٹ سیاسی قیادت اقتدارکے ایوانوں پر برجمان نظر آتے ہیں۔یہ ایک عام تاثر ہے کہ یہ عوام کے نمائندے ہیں اور عوام کے ہی منتخب کرنے پر ایوانوں میں آتے ہیں ،جبکہ حقیقت برعکس ہے ،عوام کبھی آزمائے کو آزمانا چاہتے ہیں نہ دوبارہ اقتدار میں لانا چاہتے ہیں ،یہ ملک کی مقتدر قوتیں ہیں کہ جو ایسی کرپٹ سیاسی قیادت کو عوام کے نام پر ہی عوام پر مسلط کرتے آرہے ہیں ،اس حوالے سے سابق وزیر اعظم کا کہنا بجا ہے کہ دنیا بھر میں کہیں سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ قومی خزانہ لوٹنے والے اور عدالتوں میں مقدمات بھگتنے والوں کو اقتدار سونپ دیا جائے ،مگرہمارے ہاں کرپٹ سیاسی قیادت کو نہ صرف اقتدار سونپا گیا ،بلکہ بیرونی قوتوں کی خوشنودی کیلئے عوام پرزبردستی مسلط بھی کردیا گیا ہے۔

یہ پا کستانی عوام کی بد قسمتی ہے کہ دنیا بھرمیں جنہیں کرپٹ اشرافیہ کے نام سے جانا جاتا ہے،یہ کرپٹ اشروافیہ مقتدر قوتوں کی پشت پناہی سے ایوان اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے ،اس ملک کی کرپٹ اشرافیہ کسی سے پو شیدہ نہیں ہے، ملک میں دو ہی خاندان ایک شریف فیملی اور دوسری زرداری فیملی کی کرپشن زبان زد عام ہے ،بے نظیر کے دور میں زرداری مسٹر ٹین پرسنٹ مشہور تھے ا ور یہ ان کی کرپشن کی شہرت میں کوئی کمی بھی نہیں آئی ہے، لیکن آصف زرداری کی خوبی ہے کہ انہوں نے شریف فیملی کی طرح کبھی نہیں کہا کہ میں نے ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی ہے ،جبکہ میاں شہباز شریف چالیس ار ب کی کرپشن کے مقدمات میں ملوث ہو نے کے بعد بھی بضد ہیں کہ انہوں نے ایک دھیلے کی بھی کرپشن نہیں کی ہے ۔یہ امر انتہائی قابل افسوس ہے کہ ہمارے ہاں چور لٹیرے نہ صرف آزادنہ گھومتے ہیں ،بلکہ قانون انصاف کی بھی دھجیاں بکھیرتے ہیں،ہمارا جس طرح کا عدالتی نظام ہے، اس میں کئی عشروں تک تاریخوں پہ تاریخیں لی جاسکتی ہیں اور دولت و طاقت کے زور پر مقدمات کے فیصلے بھی اپنے حق میں کروائے جاسکتے ہیں،پاکستانی عدلیہ کی تاریخ ایسے بہت سے فیصلوں سے بھری پڑی ہے ،یہ بلا امتیاز عدم انصاف کی فراہمی کا ہی نتیجہ ہے کہ بد عنوان قیادت ایوان اقتدار میں گھوم رہے ہیں ،اس میں عوامی رویوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ جو کرپشن میں سر سے پیر تلک آلودہ ہونے کے باوجو ایسی قیادت کو اپنے سر کا تاج بنا کر رکھنا چاہتے ہیں تو پھر کون انہیںسزا دے سکتا ہے۔

اس وقت ملک کے حالات بد تر سے بدتر ہوتے جارہے ہیں، اس بدترین حالات کی ذمہ دار ی بہت سے اداروں اور طبقوں پر عائد ہوتی ہے، لیکن اگر عدلیہ صحیح ہو تو ہر جگہ بہتری آ سکتی ہے،اس لئے کھلے الفاظ میں کہنا پڑے گا کہ ملک کے دگر گوں حالات کی سب سے بڑی ذمہ دار ہماری عدلیہ ہے،جو کہ توہین عدالت نامی دیوار کے سائے میں نا انصافیوں کو جنم دینے میں آگے اور بلا امتیاز فوری انصاف دینے میں بہت پیچھے ہے، انقلاب فرانس جب آیا تھاتو لوگوں نے سب سے پہلے وہاںکی عدالتوں کو فارغ کیا اور خود عدالتیں لگا کرفیصلے کرنے لگے تھے ،ہمارے حالات بھی کسی انقلاب فرانس جیسی تبدیلی کے متقاضی نظر آنے لگے ہیں، ہم لاکھ آنکھیں بند کریں اور یہ سوچیں کہ یہا ں پر ایسا نہیں ہو گا ،مگر موجودہ حالات کے پیش نظر ہونی توہو کرہی رہتی ہے۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ہم کثرت سے اپنے معاشرے کے اخلاقی بگاڑ سے لے کر سیاسی انتشار تک پر گفتگو بہت کرتے ہیں ،لیکن اس حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں کہ ہم بھی اسی قوم اور معاشرے کے فرد ہیں، اس صورت حال پر محض افسوس کے ساتھ نشاندہی کرکے اپنی جان نہیں چھڑائی جاسکتی، یہ ہماری مذہبی، قومی اور اخلاقی ذمے داری ہے کہ اپنی حد تک غلط رویوں کے خلاف نہ صرف جدوجہد کریں،بلکہ اپنی ذمے داریاں بھی پوری کریں،جو لوگ اپنی قوم اور معاشرے کو بھول کر اپنی ذات تک محدود ہوجاتے ہیںاورصرف باتوں ،تبصروں پر گزارا کرتے ہیں، تاریخ بتاتی ہے کہ خسارے میں ہی رہتے ہیں،اس لیے آج عوام خسارے کا شکار ہیں،اگر ہم نے اب بھی اپنی آنکھیں نہ کھولیں تو ہم نہ صرف غلامی کی دلدل میں دھنستے چلے جائیں گے ،بلکہ اپنی شناخت بھی کھو دیں گے ، یہ سب سے بدترین خسارہ ہو گا۔