Radical Muslims should realise grass is not greener in Pakistan, Kerala HC

کوچی(کیرل): کیرل ہائی کورٹ نے انتہاپسندانہ و انقلابی افکار و نظریات رکھنے والے مسلمانوں کو تلقین کی کہ تقسیم کے وقت سے ہندوستان کی تاریخ کا تجزیہ کریں کہ سرحد پار کے حالات اپنے ملک سے زیادہ اچھے،سرسبز و شاداب ا ور پرسکون نہیں ہیں بالفاظ دیگر دور کے ڈھول سہانے جیسا معاملہ ہے۔عدالت عالیہ نے ان خیالات کا اظہار کشمیر دہشت گردی بھرتی کیس میں لشکر طیبہ کےایک مشتبہ تھادیانتا ویدا نذیر کی سزا کی توثیق کرتے ہوئے کیا۔جسٹس کے ونود چندن اور جسٹس سی جے چندرن پر مشتمل ایک ڈویژن بنچ نے نشاندہی کی کہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے ساتھ ہونے والی کسی جنگ کے دوران ہندو اکثریتی ہندوستان میں مسلمانوں کو یرغمال بنانے کی ایک بھی مثال نہیں ہے۔

عدالت نے تین ملزموں کو چھوڑ کر کیرل میں دہشت گرد گروہ لشکر طیبہ کے کمانڈر نذیر سمیت تمام ملزموں کی دہشت پسند بھرتی کیس میں سزا کی وثیق کر دی۔ملک کے طول و عرض میں مارے مارے پھر کر اصل ملزم کا سراغ لگانے کے بعد اسے گرفتار کر کے قانون کے سامنے پیش کرنے والی کیرل پولس اور این آئی اے کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے عدالت نے کہا کہ جو لوگ ایسی انتہاپسندانہ سوچ اور ذہن کے حامل ہیں ان سے ہم صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ اگر آپ تاریخ پر نظر ڈالیں تو سرحد پار جیسا ہرا بھرا نظر آرہا ہے ویسا ہے نہیں۔

لیری کولنز اور ڈومینیک لیپیرے کی تصنیف ”نصف شب میں آزادی“ کے باب پنجم کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ مصنفین نے اس باب میں تقسیم کے بارے میں تحریر کیا تھا کہ ہندوستان میں مسلمان ”ہندو سمندر میں جزیروں“ کی مانند ہوں گے اور ہندوستان و پاکستان کے درمیان سب سے پہلے متاثر ہونے والوں میں ہوں گے۔ پاکستان کے اچھے برتاو¿ کے جواب میں ہندوستان کے مسلمان یرغمال بنے رہیں گے۔لیکن عدالت نے فیصلہ میں کہا کہ 75سال میں نہ تو مسلمان کو یرغمال بنانے جیسی صورت حال کی کوئی مثال ہے اور نہ ہی پاکستان کا برتاو¿ اچھا ہے، جیسا کہ مصنفین خیال ظاہر کیا تھا ۔