India, Uzbekistan agree to exploit full potential of Chabahar port for trade

نئی دہلی: ہندوستان-ازبکستان فارن آفس کنسلٹیشن کے 15ویں دور کے دوران ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان ہونے والی بات چیت نے کنیکٹوٹی بڑھانے کے اقدامات اور خاص طور پر وسیع تر اقتصادی تعاون پر توجہ مرکوز کی۔دہلی میں منعقد اس دور کے مذاکرات میں دونوں فریقوں نے سیاسی، اقتصادی، دفاعی، ترقیاتی شراکت داری، صلاحیت کی تعمیر، تجارتی اقتصادی، ترقیاتی شراکت داری اور ثقافتی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا۔ ایک بیان میں، وزارت خارجہ نے کہا کہ ہندوستان اور ازبکستان نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے لیے چاہ بہار بندرگاہ کی مکمل صلاحیتوں سے استفادہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ایران کے جنوبی ساحل پر واقع اس بندرگاہ کو وسطی ایشیا کے لیے ایک لنک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ بندرگاہ ہندوستان ، ایران، ازبکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لیے تیار کی جا رہی ہے، کیونکہ پاکستان نے ہندوستان سے ایران اور افغانستان کو اپنی سرحد کے ذریعے جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ 7200 کلومیٹر طویل کوریڈور چابہار بندرگاہ ایران کے جنوبی ساحل پر صوبہ سیستان بلوچستان میں واقع ہے۔یہ ہندوستان کے مغربی ساحل سے باآسانی قابل رسائی ہے اور اس کے لیے پاکستان کی سرحد تک جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

یہ کوریڈور 7200 کلومیٹر طویل ہے۔ اس سے ہندوستان، ایران، افغانستان، آرمینیا، آذربائیجان، روس، وسطی ایشیا اور یورپ کے درمیان سامان کی نقل و حرکت میں تیزی آئے گی۔ اس کے علاوہ فریقین نے افغانستان سمیت باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزارت کے مطابق، دونوں ممالک نے جنوری 2022 میں منعقد ہونے والی پہلی ہندوستان-وسطی ایشیا سربراہی کانفرنس کا جائزہ لیا اور اس کے نتائج کو تیزی سے نافذ کرنے پر اتفاق کیا۔ ان مشاورت کی مشترکہ صدارت سنجے ورما، جمہوریہ ازبکستان کے سیکرٹری اور نائب وزیر خارجہ فرقت صدیقوف نے کیا۔