US spars with China, Russia over N Korea's nuclear programme

اقوام متحدہ: شمالی کوریا پر پابندیوں کے معاملے کو لے کر اقوام متحدہ میں امریکہ، چین اور روس آپس میں بھڑگئے۔ امریکہ کی طرف سے شمالی کوریا کے میزائل اور جوہری پروگرام کے حوالے سے اس پر اقوام متحدہ کی نئی پابندیوں لگانے کے لیے زور دئیے جانے پرچین اور روس کی جانب سے سخت مخالفتکی گئی جس پر امریکہ کی ان دونوں ممالک کے سفیروں سے تیکھی نوک جھونک ہوئی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ہونے والی بات چیت نے دونوں فریقوں کے درمیان کافی اختلافات دیکھنے کو ملے اور بائیڈن انتظامیہ کے لیے کونسل کو نئی پابندیوں کی تجویز پاس کرنا تقریبا ناممکن بنا دیا۔

چین اور روس دونوں کے پاس ویٹو کا حق ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا پر نئی مذاکراتی پیشرفت دیکھنا چاہتے ہیں اور نہ کہ اسے مزید سزا دینا چاہتے ہیں۔امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ سلامتی کونسل اس وقت تک انتظار نہیں کر سکتی جب تک کہ شمالی کوریاایک اور اشتعال انگیز، غیر قانونی، خطرناک اقدام جیسا کہ جوہری تجربہ کرنے تک کا انظارنہیں کر سکتی ہے۔ گرین فیلڈ اس ماہ کے لیے سلامتی کونسل کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریہ کوریا نے اس سال اب تک 17 بیلسٹک میزائل تجربات کیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل خالد خیری نے کونسل کو بتایا کہ شمالی کوریا نے گزشتہ پانچ مہینوں میں اس نے دو سال پہلے کے مقابلے زیادہ میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔

گرین فیلڈ نے چین اور روس کا براہ راست حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار برسوں میں دو ارکان امریکہ نے پابندی عائد کرنے کی ہر کوشش کو روک دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دسمبر 2017 میں منظور کی گئی پابندیوں کی قرارداد میں سلامتی کونسل نے کہا تھاکہ اگر شمالی کوریا نے بین البراعظمی خطے تک پہنچنے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تو اسے پٹرولیم کی برآمدات پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی سفیر نے کہا کہ شمالی کوریا نے اس سال کم از کم تین ICBM ٹیسٹ کیے اور کونسل اس پر خاموش ہے۔ امریکی پابندیوں کی مجوزہ تجویز میں دیگر پابندیوں کے علاوہ تیل کی برآمدات پر پابندی بھی شامل ہوگی۔

وہیں چین کے سفیر ڑانگ جون نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ پابندیوں کی جادوئی طاقت میں توہم پرستی میں مبتلا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان براہ راست بات چیت کے مثبت نتائج برآمد ہوئے تھے لیکن امریکہ نے پیانگ یانگ کے مثبت اقدامات پر کیے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے سے موجودہ تعطل پر پابندیاں لگا دی ہیں۔۔ اقوام متحدہ میں روس کی نائب سفیر اینا ایوسٹگنیوا نے نئی پابندیوں کے خلاف ڑانگ کی مخالفت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا، بدقسمتی سے اب تک کونسل نے شمالی کوریا کی طرف سے مثبت اشارے کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف پابندیاں سخت کی ہیں۔