Urdu Development organisation condole Journalist Rahmatullah Farooqui death

نئی دہلی:(رپورٹ سہیل انجم) روزنامہ قومی آواز کے سابق سینئر سب ایڈیٹر مولانا رحمت اللہ فاروقی کے انتقال پر سینئر صحافی جلال الدین اسلم کی صدارت میں تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں متعدد صحافیوں کی جانب سے مرحوم کی اردو خدما ت کو یاد کرتے ہوے انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔جلال الدین اسلم نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ مولانا رحمت اللہ فاروقی کا انتقال اردو زبان اور اردو صحافت کا ایسا خسارہ ہے جس کا جلد پُر ہونا ممکن نہیں ہے۔ وہ نہ صرف یہ کہ ایک بہت اچھے صحافی اور مترجم تھے بلکہ اردو زبان کے سچے شیدائی اور عاشق بھی تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لیے وقف کر دی تھی۔ انھوں نے اپنی جیب خاص سے خرچ کرکے سیکڑوں لوگوں کو اردو سکھائی پڑھائی۔ وہ خاص طور پر جھگیوں میں رہنے والے بچوں کو اردو پڑھاتے تھے۔ ان کا انتقال میرے لیے ایک ذاتی سانحہ بھی ہے۔

سینئر صحافی سہیل انجم نے قومی آواز میں ان کے ساتھ گزارے ہوئے ایام کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ جہاں ایک بہت اچھے صحافی تھے وہیں وہ بہت اچھے انسان بھی تھے۔ ان کی زبان سادہ، سہل اور شگفتہ ہوتی۔ وہ سلیس زبان میں انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرتے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بہت معاون انسان تھے۔ جب تک قومی آواز نکلتا رہا وہ اس سے وابستہ رہے اور اپنی ڈیوٹی سے زیادہ کام کرتے رہے۔ اردو کے علاوہ فارسی پر بھی انھیں عبور حاصل تھا۔ عربی کی بھی شد بد رکھتے تھے۔ ہندی بھی بہت اچھی جانتے تھے۔ لیکن وہ اردو زبان پر جان چھڑکتے تھے۔ انتقال سے چند گھنٹے قبل بھی وہ بچوں کو اردو پڑھاتے رہے۔ اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے روح رواں ڈاکٹر سید احمد خاں نے کہا کہ مولانا رحمت اللہ فاروقی ان کے ہر پروگرام میں شریک ہوتے خواہ ان کی طبیعت ہی ناساز کیوں نہ ہو۔ وہ بہت بذلہ سنج بھی تھے اور پرلطف جملوں کی ادائیگی میں ان کو مہارت حاصل تھی۔ اردو زبان کی ترویج کے لیے وہ ہر آزمائش سے گزرنے کے لیے تیار رہتے۔ دہلی میں ان کے سیکڑوں شاگرد ہیں۔ سینئر صحافی ظفر انور شکرپوری نے کہا کہ مولانا رحمت اللہ فاروقی دہلی کے اہل علم میں ایک باعزت مقام رکھتے تھے۔

انھوں نے بہت سے صحافیوں کے ساتھ کام کیا تھا جس کی وجہ سے انھیں صحافت کا زبرست تجربہ حاصل ہوا جس کا اظہار ان کی تحریروں میں ہوتا تھا۔ دوسرے مقررین نے کہا کہ مولانا رحمت اللہ فاروقی نے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ وہ اپنی ذات سے سب کو فائدہ پہنچانا چاہتے تھے۔ وہ ہر ضرورت مند کی مدد کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے۔ وہ نوآموز صحافیوں کی تربیت بھی کرتے تھے۔ وہ ایک انتہائی نیک انسان تھے۔ ان کی صحافتی و انسانی خوبیاں انھیں تادیر زندہ رکھیں گی۔ اظہار خیال کرنے والوں میں نیاز احمد راجہ، مولانا گوہر قاسمی، مولانا نثار احمد نقشبندی، حافظ شفیق احمد، عبد المنان، ظفر اللہ اور دیگر قابل ذکر ہیں۔