weapons supply to Ukraine will remain continue : Pentagon

واشنگٹن: (اے یو ایس)امریکی وزارت دفاع پینٹاگان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ملٹری ٹرانسپورٹ لیڈرشپ امریکی ذخیرے سے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھے گی۔ وزارت مذکورہ نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر کے توسط سے مزید کہا کہ وہ یوکرین کو فوجی امداد کی ترجیحی درخواستوں کو منظور کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اتحادیوں اور شراکت داروں کے ذریعے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ اس سے قبل پینٹاگان کے ترجمان نے ایک پریس بریفنگ میں وضاحت کی تھی کہ ان کے ملک نے صدارتی فیصلوں کے ذریعے یوکرین کو فوجی امداد دی ہے جو کہ 2021 کے لیے تقریباً اس کے دفاعی بجٹ کے برابر ہے۔امریکی حکام نے گذشتہ پیرکوکہا تھا کہ واشنگٹن باقی امدادی ذخیرے کو ہوشیاری سے استعمال کرنا چاہتا ہے تاکہ یوکرین کو موجودہ لڑائی میں ضرورت کے مطابق سامان فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ کانگریس کی طرف سے منظور کردہ امدادی پیکج اس ماہ کے تیسرے ہفتے کے آخر تک ختم ہو جائے گا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ کی طرف سے درخواست کردہ دوسرے پیکج کو جلد منظور کیا جائے۔قابل ذکر ہے کہ یوکرین کی سرزمین پر روسی فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد سے امریکا یوکرین کو فوجی اور انٹیلی جنس مدد فراہم کر رہا ہے۔تازہ ترین امریکی بیانات میں اقوام متحدہ میں امریکا کے مستقل نمائندے نے کہا کہ واشنگٹن کییف کو انٹیلی جنس ڈیٹا فراہم کرتا رہے گا لیکن یہ معلومات کس طرح استعمال کی جاتی ہیں اس کا تعلق یوکرین کی فوج سے ہے۔

مندوب لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم انہیں خفیہ معلومات فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ روس کے خلاف اپنا دفاع کر سکیں اور ساتھ ہی روسی فریق کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بہتر پوزیشن حاصل کر سکیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک یوکرین کی فوجی ضرورت کے مطابق اس کی معاونت جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس نے یوکرین کے لیے امریکی معاونت کے نتائج کو محسوس کیا ہے۔