Thousand Afghan soldiers leave afgahnistan and move into Pakistan as Ghani govt fall

واشنگٹن:(اے یو ایس)افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت گرنے کے ساتھ ہی سینکڑوں افغان فوجی پاکستان اور ایران فرار ہوگئے۔جب طالبان حکومت نے پچھلے سال اگست میں افغانستان پر قبضہ کیاتو اس وقت اشرف غنی حکومت کے فوج کے اعلیٰ افسروں کے علاوہ دوسرے جوان وہاں سے فرار ہوگئے۔ تاکہ وہ نئی حکومت کے عتاب سے بچ جائے۔

ایک امریکی رپورٹ کے مطابق یہ لوگ کابل اور دوسرے اہم شہروں سے بھاگ کر پاکستان چلے گئے اور پاکستان وایران کے ساتھ سرحدی راستوں پر طالبان کو قبضہ کرنے میں اہم رول ادا کیا۔اگست میں کابل پر قبضہ ہونے سے پہلے ہی افغان فوجیوں نے پاکستان میں داخل ہونا شروع کیا اس سے پہلے طالبان نے کئی اہم صوبوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ۔

پچھلے آٹھ ماہ کے دوران تین لاکھ افغان پاکستان فرار ہوگئے لیکن یہ نہیں پتہ چلا کہ ان میں سے کتنے فوجی ہیں۔ سب سے پہلے جولائی میں افغان فوج کے46اہلکار جن میں پانچ افسران بھی شامل تھے۔چترال میں داخل ہوگئے۔ ان میں سے بیشتر افغان فوجی پاکستان کے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے صوبوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہاگیا کہ بہت سارے سیکڑوں کی تعداد میں فوجی تاجکستان بھی فرار ہوگئے۔وہ اپنی جان بچانے کےلئے ملک سے فرار ہوئے اور پہلے ہی دو ہفتوں کے دوران تین ہزار سے زیادہ تاتاجکستان میں پناہ لی۔ یہ فوجی زیادہ تربدخشاں اور تکہل صوبوں سے تعلق رکھتے تھے جو تاجکستان کے سرحد کے ساتھ مل رہے ہیں۔