this is masses enemy budget not a friendly pakistan

اتحادی حکومت نے نئے مالی سال کا جو میزانیہ پیش کیا ہے ،اس میں حکومت کی جانب سے کوئی ایسے نئے اقدامات سامنے نہیں آئے ہیں کہ جن کا مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے ،تاہم حکومت کی طرف سے بجٹ کے موقع پر ایسے ہی بیانات سننے کو مل رہے ہیںکہ عوام پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا، بجٹ عوام دوست ہے، اس سے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی، اس کے مقابلے میں حزبِ اختلاف کے بیانات بھی وہی پرانے ہیں کہ بجٹ سے مہنگائی کا طوفان آجائے گا، بجٹ عوام دشمن ہے، اس سے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا ، ہماری سیاسی قیادت کے سارے بیانات رٹے رٹائے ہیں اور ہر مرتبہ انھیں دہرا کر عوام کی ہمدردی سمیٹنے کی کوشش کی جاتی ہے ،عوام ایسے بیانات اتنی بار سن چکے ہیں کہ انھیں سب باتیںزبانی یاد ہوچکی ہیں،عوام اچھی طرح جان چکے ہیں کہ بجٹ اور اعدادو شمار کا ایسا گورکھ دھندا ہے کہ جو اپنے مقاصد کے حصول میں عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے ہی پیش کیا جاتا ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ عوام کو بجٹ اور اعدادو شمار کے گورکھ دھندے میں کوئی دلچسپی نہیں، ان کی دلچسپی کا ایک ہی موضوع بڑھتی مہنگائی ہے جو کم ہونے کا نام ہی لے رہی ہے ،وفاقی ادارئہ شماریات کی طرف سے جاری کردہ ہفتہ وار مہنگائی رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ملک میں مہنگائی کی شرح 2.67فی صد اضافے کے ساتھ 23.98 فی صد کی بلند شرح پر پہنچ گئی ہے، اس ہفتے کے دوران 33 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں ہیں، گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دو مرتبہ 30 روپے کا اضافہ ہونے کے بعد سے مہنگائی کئی گنا بڑھ چکی ہے، ایسے میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل خبر دی ہے کہ حکومت نئے مالی کے آغاز سے قبل ہی تیل پر سبسڈی مکمل طور پر ختم کردے گی، پٹرول پر 23روپے، جبکہ ڈیزل پر 55 روپے مزید اضافہ کرے گی، اور صرف یہی نہیں ،بلکہ ان کا کہناہے کہ دو مہینے کے بعد عوام کو الیکٹرک بلوں سے بھی شاک لگے گا، اس کے بعد حکومتی بجٹ اور اس کی تفصیلات کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے۔

اس بجٹ میں صاف ظاہر ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کے ساتھ بجلی و گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے جارہا ہے، مہنگائی کاایک طوفان آنے ولا ہے ، ماہرینِ اقتصادیات کا بھی کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے افراطِ زر کا ہدف حقائق سے بالکل مختلف ہے، مہنگائی کی شرح 13.5تک جاسکتی ہے، اور شرحِ ترقی آدھی ہوکر دو سے تین فی صد پر جانے کے امکانات ہیں،اس سے چیزوں کی قیمتیں مزید بڑھیں گی،اوربے روزگاری کا سیلاب آئے گا،اس ملک میں مہنگائی بڑھے یا بے روز گاری کا سیلاب آئے ،حکومت نے غریب عوام کو ہی قربانی کا بکرا بنانا ہے ،یہ سرمایہ داروں کی حکومت ہے اور اس نے عام عوام کی بجائے سر مایہ داروں کے تحفظات کا ہی خیال کرنا ہے۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اعدادو شمار کے گورکھ دھندے میں بجٹ اور عوامی توقعات کے درمیان ایک واضح خلیج رہی ہے، پوری دنیا میں عمومی طور پر بجٹ سالانہ معاشی پالیسیوں پر مبنی ہوتا ہے، لیکن ہمارے یہاں منی بجٹوں کی اتنی بھرمار ہوتی ہے کہ لوگ بجٹ کو ایک طاقت ور طبقے اور اشرافیہ کا کھیل سمجھتے ہیں اور اس میں عام آدمی کے لیے کہیں کچھ بھی موجود نہیں ہوتا ہے، محض ایک مخصوص اشرافیہ کے مفادات کو ہی تحفظ ملتا ہے،جبکہ دوسری طرف ہماری ترقی اور آزادی داﺅ پر لگی ہے،یہ پسِ پردہ سارا عالمی قوتوںکھیل ہے کہ جس کا شکنجہ آئی ایم ایف کی شکل میں مضبوط ہوتا جارہا ہے ،ہر دور حکومت میں آئی ایم ایف کا پروگرام بحال کرانے کے لیے معاملات طے کیے جاتے رہے اور اپوزیشن شور مچاتی رہی ہے، اس بار بھی سارے کام شہبازشریف قیادت میں ہورہے ہیں اور اپوزیشن سراپہ احتجاج ہے ۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب اندر سے ایک ہیں، یہ بجٹ آئی ایم ایف کی ہدایات کی روشنی میں بنا ہے اور غلامانہ سوچ کے ساتھ بنے والا بجٹ کبھی عوامی مفاد میں نہیں ہو سکتا ہے ، ہم جب تک آئی ایم ایف سے نجات حاصل کرنے کے لیے مزاحمت کا راستہ اختیار نہیں کریں گے، تب تک ایسے ہی عوام دشمن بجٹ ہی آتے رہیں گے، ملک میںبدحالی بڑھتی جائے گی، غربت، بے روزگاری، بھوک، ننگ وافلاس ہی رہے گا ،حکومت انتخاب و احتساب کے قوانیں میں فوری ترامیم میں دیر نہیں کی ہے ،مگر کرپٹ اشرافیہ نے چار پانچ سو ارب ڈالر قومی وسائل کو لوٹ کر بیرون ملک جمع کرارکھے ہیں، ان رقوم کی واپسی کی کوئی بات ہی نہیںکرتی ہے ،اگر اس کا دسواں حصہ بھی قومی خزانے میں واپس لے آیا جائے تو ملک معاشی بحران سے با آسانی نجات پاسکتا ہے ،لیکن حکومت ایسا ہر گز نہیں کرے گی ،کیو نکہ ملک لوٹنے والے ہی حکمران بنے بیٹھے ہیں۔