India grants visas to 111 Afghan Sikhs & Hindus

نئی دہلی: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں کارتے پروان کے گوردوارہ پر حملے کے بعد ہندوستان نے افغان سکھوں کی پناہ کی درخواست کرنے کے بعد بڑا قدم اٹھایا ہے۔ گوردوارے پر حملے کے بعد سے ہندوستان کی وزارت خارجہ پر کڑی نظر رکھی گئی ہے۔ وزارت داخلہ نے افغانستان میں 100 سے زائد سکھوں اور ہندؤوں کو ترجیحی بنیادوں پر ای ویزا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کابل حملے کے بعد وزارت داخلہ نے افغانستان میں 100 سے زائد سکھوں اور ہندؤوں کو ترجیحی بنیادوں پر ای ویزا دیا ہے۔

حکومت ہند کی طرف سے جاری کردہ ای ویزا آن لائن درخواست کے ذریعے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل ای ویزا گزشتہ سال 15 اگست کو وزارت داخلہ کی جانب سے افغانستان پر طالبان کے قبضے کے دوران بھی جاری کیا گیا تھا۔ واضح ہو کہ ہفتہ کو ہونے والے اس حملے میں ایک سکھ سمیت دو افراد ہلاک اور سات دیگر زخمی ہوئے تھے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب مسلح افراد نے ایک دستی بم پھینکا جس سے گوردوارے کے دروازے کے قریب آگ لگ گئی۔ تاہم افغان سکیورٹی اہلکاروں نے بارودی مواد سے بھری گاڑی کو گردوارے میں داخل ہونے سے روکتے ہوئے ایک اور بڑے واقعے کو ٹال دیا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے حملے کے بعد کہا کہ وہ کابل میں گرودوارہ پر حملے کی خبر پر گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔ وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے کہا ہے کہ گوردوارہ کارتے پروان پر بزدلانہ حملے کی سب کو سخت الفاظ میں مذمت کرنی چاہئے۔ حملے کی خبر ملنے کے بعد سے ہم ان واقعات کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ ہماری پہلی اور سب سے بڑی فکر کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے ہے۔مارچ 2020 میں کابل کے ایک گردوارے پر خودکش حملے میں کم از کم 25 سکھ ہلاک اور آٹھ دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ یہ حملہ افغانستان میں اقلیتی سکھ برادری پر مہلک حملوں میں سے ایک تھا۔ دہشت گرد گروہ دولت اسلامیہ نے شور بازار کے علاقے میں ہوئے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ADIZ میں گھس پیٹھ کی ہے۔