8th India Bangladesh joint consultative commission meeting to be held in Bangladesh in 2023

نئی دہلی: وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ہند بنگلادیش مشترکہ مشاورتی کمیشن (جے سی سی) اجلاس کا 8واں دور 2023میں بنگلا دیش میں منعقد ہوگا۔ہندوستان-بنگلہ دیش جے سی سی کا ساتواں دور 19 جون 2022 کو نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ جے سی سی کی مشترکہ صدارت وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر اے کے عبدالمومن نے کی۔وزر انے 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کی مشترکہ قربانیوں سے پیدا ہونے والی دونوں فریقوں کی محبت اور ہمدردی کو یاد کیا جس سے تاریخی اور دوستانہ قریبی تعلقات پیدا کیے جو اسٹریٹجک شراکت داری کے روایتی تصور سے بالاتر ہیں۔ بنگا بندھو شیخ مجیب الرحمن کا صد سالہ یوم پیدائش؛ بنگلہ دیش کی آزادی کی پچاسویں سالگرہ اور ہندوستان اور بنگلہ دیش کے سفارتی تعلقات کی سنہری سالگرہ جیسے تین عہد ساز واقعات کو مشترکہ طور پر منانے کے لیے انہوں نے 2021 میں ہندوستان کے صدر اور وزیر اعظم دونوں کے بنگلہ دیش کے غیر معمولی دوروں کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا بھی خیر مقدم کیا ۔

دوطرفہ اور علاقائی تعاون کے لیے ایک رول ماڈل کے حوالے سے وزرا نے اس اس امر کو سراہا کہ گزشتہ دہائی میں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اعتماد اور باہمی احترام مضبوط ہوا ہے۔ اس کی ایک تازہ ترین مثال مئی 2022 میںکینزفلم فیسٹیول میں بنگا بندھو شیخ مجیب الرحمان پر مشترکہ طور پر بنائی گئی بائیوپک مجیب۔میکنگ آف اے نیشن کے ٹریلر کا اجراتھا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے کہ کوویڈ 19 عالمی وبا پھیلنے کے بعد سے جے سی سی کا یہ پہلا بالمشافہ اجلاس ہے دونوں وزرا نے مشترکہ طور پر کوویڈ 19 سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کی طرف سے کی گئی کوششوں کی تعریف کی ۔

واضح ہو کہ اس سے قبل جے سی سی کا آخری اجلاس 2020 میں منعقد ہوا تھا وزرا نے دونوں ممالک کے مابین جاری تعاون کے تمام شعبوں بشمول دسمبر 2021 میں صدر رام ناتھ کووند کے دوروں،مارچ 2021 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دوروں، دسمبر2020 میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان ورچوئل سربراہی اجلاس کے دوران کیے گئے فیصلوں پر عمل آوری اور ستمبر 2020 میں جے سی سی کی گذشتہ ورچوئل میٹنگ کا جامع جائزہ لیا۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ کوویڈ 19 وبائی امراض سے درپیش چیلنجوں کے باوجود، دونوں ممالک نے سیکورٹی اور بارڈر مینجمنٹ سے لے کر باہمی طور پر منفعت بخش تجارت اور سرمایہ کاری تک ہر شعبے میں پہلے سے کہیں زیادہ نزدیکی سے کام کیا نیز دو طرفہ اور ذیلی علاقائی ملٹی ماڈل کو بڑھایا ہے۔