Iran hangs extremist accused of murdering Shiite clerics

تہران: (اے یو ایس )ایران میں پیر کی صبح ایک انتہا پسند سنی کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ اس پر لزام تھا کہ اس نے ماہ اپریل کے شروع میں دو شیعہ علما کو چاقو سے وار کر کے قتل کیا تھا۔ دوہرے قتل کا یہ واقعہ ایرانی شہر مشہد میں امام رضا کے مزار پر پیش آیا تھا۔اس 21 سالہ ازبک شہری عبد اللطیف مرادی نے ان شعیہ علما کو اس وقت قتل کیا جب رمضان المبارک میں امام کے مزار پر زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔

پیر کی صبح مشہد کی وکیل آباد جیل میں جب مرادی کو پھانسی دی گئی تو اس وقت شہریوں کی ایک تعداد کے علاوہ متعلقہ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔اس بارے میں صوبائی عدالتی سربراہ غلام علی صادقی کا کہنا ہے کہ ”مرادی اللہ کے خلاف جنگ کے جرم کا مرتکب ہوا تھا،اس نے ہاتھ میں چاقو پکڑ کر مزار پر موجو لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کی کوشش کی تھی اور اپنے چاقو سے ایک فرد کو بیس زخم لگائے تھے۔”4 اپریل کو پیش آنے والے اس واقعے کے بعد 7 جون کو عدالت نے مرادی کے لیے سزائے موت کا اعلان کیا تھا۔ مرادی کے وکیل نے سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی۔ تاہم اپیل مسترد ہونے کے بعد اسے پھانسی دے دی گئی ہے۔

اسی کیس میں بعد ازاں ایرانی پولیس نے تین مزید افراد کو گرفتار کیا تھا مگر انہیں بے گناہ قرار دے کر رہا کر دیا گیا ہے۔مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مرادی رواں سال کے شروع میں پاکستانی علاقے سے ایران میں داخل ہو کر ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد پہنچا تھا۔ ایران میں سنی انتہا پسندوں کے لیے تکفیری کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ا یمنسٹی انٹر نیشنل کے مطابق ایران میں گذشتہ سال 314 افراد کو پھانسی کی سزا ی گئی، یہ تعداد پچھلے چار برسوں کے مقابلے میں زیادہ تھی۔