Pakistan: 6 Baloch rebels killed in clash with security forces

بلوچستان: ایک فوجی بیا ن کے مطابق گذشتہ روز پاکستان کے جنوب مغربی بلوچستان میں سلامتی دستوں کے ساتھ مسلح تصادم میں کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے چھ کارکن ہلاک ہو گئے۔ فوج کے شعبہ نشر و اشاعت و رابطہ عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے بیان کے مطابق سلامتی دستوں نے سلسلہ کوہستان میں بلوچ باغیوں کی موجودگی کے حوالے سے خفیہ اطلاع ملنے کے بعد اپنی کارروائی شروع کی ۔

سلامتی دستوں نے علاقہ میں جیسے ہی کارروائی شروع کی بلوچ باغیوں نے اپنے ٹھکانوں سے بھاگنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی سلامتی دستوں پر فائرنگ بھی شروع کردی۔سلامتی دستوں نے بھی تعاقب کرنے کے ساتھ ساتھ فائرنگ کرنا شروع کردی جس میں کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے چھ کارکن ہلاک ہو گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ باغی سلامتی دستوں کی چوکیوں اور اس کے قافلوں پر دیسی ساخت کے بموں سے حملے کرنے میں ملوث تھے۔بیان میں کہا گیا کہ سلامتی دستوں نے علاقے میں امن و سلامتی میں خلل ڈالنے کے لیے استعمال کرنے کی نیت سے خفیہ ٹھکانے میں رکھا گیا اسلحہ بارود ضبط کیا۔واضح ہو کہ بلوچستان طویل عرصے سے پاکستان سے آزادی کا مطالبہ کر رہا ہے، اور چین کی طرف سے شروع کیے گئے اربوں ڈالر کے ون بیلٹ ون روڈ (او بی او آر) منصوبے نے ان کے جذبہ آزادی کومزید بھڑکادیا ہے۔

بلوچ ون بیلٹ ون روڈ کے جزو کے طور پرچین پاکستان اقتادی راہداری(سی پیک) کی مخالفت کر رہے ہیں جس کی پاداش میںانہیں پاک فوج کے ظلم اور نسل کشی کا سامنا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ پاکستانی سلامتی دستوں اور خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں بلوچ سیاسی کارکنوں، دانشوروں اور بلوچ طلبا کی جبری گمشدگیوں اور قتل کے بے شمار واقعات ہیں۔جس کے باعث بلوچ نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد اپنی جان بچانے کے لیے بیرون ملک ہجرت کر چکی ہے۔ وہ بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں لیکن امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔