Finland is ready to right Russia if attacked: defense chief

ہلسنکی: فن لینڈ کی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا کہ فن لینڈ کئی دہائیوں سے روسی حملے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے اور اگر ایسا ہوا تو وہ سخت مزاحمت کرے گا۔نورڈک خطہ کے ،جس میں ڈنمارک، ناروے، سویڈن، آئس لینڈ سمیت کئی ممالک ہیں، ملک فن لینڈ نے اسلحہ کا وافر ذخیرہ کیا ہوا ہے۔ لیکن جنرل ٹیمو کیوینن نے کہا کہ فوجی سازو سامان کے ساتھ ساتھ ایک اہم عنصر یہ ہے کہ فن لینڈ کے باشندوں کی لڑنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

کیوینن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ فن لینڈ نے 1940 کی دہائی میں اپنے مشرقی پڑوسی کے خلاف جس کے ساتھ اس کی 1,300 کلومیٹر (810 میل) سرحد ہے، دو جنگیں لڑیں، ۔کبھی ناوابستہ ملک رہنے والا یہ ملک اب ان خدشات پر کہ روس اس پراسی طرح حملہ کر سکتا ہے جیسا کہ اس نے 24 فروری کو یوکرین پرکیا تھا، ناٹو کے فوجی اتحاد میں شمولیت کی درخواست کر رہا ہے ۔دوسری جنگ عظیم کے بعد سے، ہیلسنکی نے اعلیٰ سطح کی فوجی تیاریوں کو برقرار رکھا ہے۔

کیوینن نے کہا کہ ہم نے اپنے فوجی دفاع کو اس قسم کی جنگ کے لیے جیسی یوکرین میں لڑی جا رہی ہے اورجس میں فائر پاور، بکتر بند افواج اور فضائیہ کے بڑے پیمانے پر استعمال بھی شامل ہے، بالکل صحیح طریقے سے تیار کیا ہے ۔یاد رہے کہ فن لینڈ اور سوویت یونین کے درمیان لڑی جانے والی دو جنگوں میں تقریباً 100,000 فن لینڈ باشندے مارے گئے اور اس کی سرزمین کا دسواں حصہ اس کے قبضہ سے نکل گیا تھا۔55لاکھ کی آبادی والی قوم کے پاس جنگ کے وقت فوجیوں کی تعداد تقریباً280,000 اور تربیت یافتہ ریزرو فوجیوں کی تعداد 870,000 ہے۔