Pakistani propaganda on Kashmir has a new launchpad — Erdogan’s Turkey

نئی دہلی:ہندوستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مسئلہ کشمیر پر اسلامی ممالک میںتوانائی بخش پیشقدمی کے ساتھ انفارمیشن وار کی ایک نئی شکل کے شواہد ملے ہیں۔

ایجنسیوں کا خیال ہے کہ ترکی کشمیر پر پاکستانی پروپیگنڈے کے لیے لانچ پیڈ بن گیا ہے کیونکہ یہ سعودی عرب اور فلیا فورم ممالک(قبرص ، یونان، اٹلی، اردن، ، فلسطین، فرانس، مصر، سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات)کے خلاف اس کے وسیع تر عزائم کے عین مطابق ہے۔یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ صدر رجب طیب اردغان کی حکومت تمام فورمز پر کشمیر پر پاکستان کے موقف کی بھرپور حمایت کر رہی ہے۔

اسلامی دنیا میں سعودی عرب کے اثر و رسوخ اور اجارہ داری کو چیلنج کرنے کی اپنی خواہش میں، ترکی کشمیر سمیت بہت سے مسائل کو چھیڑکر پوری شدومد کے ساتھ دیگر مسلم ممالک پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے ۔ترک انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی ٹی اور پاکستان کی آئی ایس آئی نے مل کر کشمیر کے انتہا پسند نوجوانوں کو متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے بجائے، جن کے ہندوستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، استنبول اور انقرہ ٹھکانوں پر منتقل کرنے کی ترغیب دی ہے۔

جموں و کشمیر پولیس کے ایک سینئر افسر نے اس ہفتے سری نگر میں بتایا کہ پاکستانی دہشت گردوں کے قبضہ سے ترکی ساختہ پستولیں برآمد ہوئی ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ فی الحال ابھی تک ترکی کا کوئی دہشت گرد یہاں نہیں پایا گیا۔ہندوستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کشمیر پر پاکستان اور ترکی کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر رابطہ ہونے کا سراغ لگایا ہے۔ ہندوستان نے ترک شہری محمد ناظم تسکی کوجو صدر اردوغان کے بیٹے بلال اردوغان کی سربراہی میں ترکی یوتھ فاو¿نڈیشن سے وابستہ ہے، بلیک لسٹ کر دیا ہے۔