Iranian Guards replace commander of unit that protects supreme leader Khamenei

تہران: (اے یو ایس )ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے ہفتے کے روز اپنے انٹیلی جنس سربراہ کی تبدیلی کے دو روز بعد ملک کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی حفاظت پر مامور یونٹ کے کمانڈر کو بھی ہٹادیا ہے اوران کی جگہ نئے کمانڈر کا تقررکیا ہے۔ایران کے نیم سرکاری خبررساں ادارے تسنیم نے پاسداران انقلاب کے ترجمان رمضان شریف کے حوالے سے خبر دی ہے کہ پاسداران انقلاب کے چیف کمانڈر حسین سلامی نے حسن مشروعی فرکو پاسداران انقلاب کے ”ولی امر“یونٹ کا نیا کمانڈر مقررکیا ہے۔یہ یونٹ ایران کے جملہ اعلیٰ اختیارات کے حامل علی خامنہ ای کے تحفظ کا ذمہ دار ہے۔

یونٹ کے نئے کمانڈرحسن مشروعی فرکے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔انھوں نے ابراہیم جباری کی جگہ لی ہے جو2010 سے اس یونٹ کے سربراہ چلے آرہے تھے۔ ترجمان رمضان شریف نے یہ واضح نہیں کیا کہ جباری کو کوئی نیا کردارسونپا گیا ہے یا نہیں۔جباری سے پہلے پاسداران انقلاب نے اپنے شعبہ سراغرسانی کے سربراہ اورطاقتورعالم دین حسین طائب کو بھی ہٹا دیا تھا۔ وہ 2009 سے پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس تنظیم کے سربراہ تھے۔طائب کی حیرت انگیزاندازمیں برطرفی گذشتہ چند ہفتوں کے دوران میں پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ ایرانی فوج سے وابستہ دیگرافراد کی پراسرار ہلاکتوں کے بعد عمل میں آئی ہے۔جباری اور طائب کی برطرفی قریب قریب بیک وقت ہوئی ہے۔

دونوں ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک اپنے اپنے عہدوں پر خدمات انجام دیتے رہے تھے۔اب انھیں اس طرح برطرف کیے جانے پر کئی ایک سوالات جنم لیں گے۔ جباری نے مختصر وقت کے لیے حسین طائب کے نائب کے طور پربھی خدمات انجام دی تھیں جب وہ 2009 میں پاسداران انقلاب کے نیم فوجی بازو بسیج کے سربراہ تھے۔