We are keeping watch the efforts to revive nuclear talks : says Israel

تل ابیب:(اے یو ایس )یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوسیپ بوریل کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو جائیں گے ایک اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار نے اس معاملے پر تبصرہ کیا ہے۔انہوں نے ہفتے کے روز کہا کہ ہم ایرانی جوہری مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کو بہ غور دیکھ رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب بوریل نے ہفتے کے شروع میں واضح کیا تھا کہ ان کا دورہ تہران اس اہم معاملے میں مہینوں سے موجود تعطل کو توڑنے کے لیے اہم کردار اداکرے گا۔

انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ “ان کے دورے کا بنیادی مقصد موجودہ ڈائنامک کو توڑنا اور آگے بڑھنے کی ڈائنامک کے لیے راہ ہموار کرنا تھا ۔یورپی یونین کی خارکہ پالیسی کے سربراہ کا خیال ہے کہ خطے میں علاقائی سلامتی ایران کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے عندیہ دیا کہ بوریل کے ساتھ ملاقات مثبت تھی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جلد ہی جوہری مذاکرات کی بحالی کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ملک کو جس چیز کی فکر ہے وہ یہ ہے کہ 2015 کے معاہدے کے اقتصادی فوائد سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ قبل ازیں ایک ایرانی اور دوسرے یورپی عہدیدار نے وضاحت کی تھی کہ ایران پر پابندیوں سے متعلق مسائل ابھی حل طلب ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاسداران انقلاب کو بلیک لسٹ رکھنے کے امریکی فیصلے پر ایران ناراض ہے۔ شاید اسی وجہ سے جوہری معاہدے پر مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔قابل ذکر ہے کہ امریکا نے اس ماہ کے شروع میں اعلان کیا تھا کہ وہ غیر ضروری مسائل میں الجھے بغیر اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے بدلے میں تہران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے والے معاہدے کو بحال کرنے کے حوالے سے ایران کے تعمیری جواب کا انتظار کر رہا ہے۔

جبکہ ایرانی وزارت خارجہ نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں جوہری معاہدے سے علیحدگی کے وقت تہران پر عائد کی گئی پابندیاں ختم کرے۔مذاکراتی فریقوں نے اپریل 2021 سے ملاقاتیں شروع کیں۔ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں میراتھن راو¿نڈز کے دوران بات چیت جاری رہنے کے بعد گذشتہ مارچ میں معاہدے کی بحالی کے قریب پہنچ کر تعطل کا شکار ہوگئی۔ اس دوران امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے بالواسطہ طور پر ان مذاکرات میں حصہ لیا تھا۔