Israel lowers Istanbul travel warning after Iranian threat reduced

تل ابیب: (اے یو ایس )اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل نے منگل کے روز استنبول کے لیے اپنی سفری انتباہ کے خطرے کواعلیٰ سطح سے کم کردیا ہے۔اسرائیلی حکومت نے قبل ازیں کہا تھا کہ ترکی کے بڑے شہر میں اسرائیلیوں کو نشانہ بنانے کے لیے ایران کی تیارکردہ قاتلانہ سازشوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے ایک بیان میں کہا کہ میں ترک سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ اپنی سکیورٹی فورسز کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنھوں نے گذشتہ مہینوں اور ہفتوں کے دوران میں استنبول اور ترکی میں اسرائیلیوں پر حملوں کی روک تھام کے لیے کام کیا ہے۔

نفتالی بینیٹ نے ترک صدر رجب طیب اردوغان اور ان کے عوام کا ترکی میں اسرائیلیوں پر حملوں کو ناکام بنانے میں تعاون پر شکریہ ادا کیا ہے اور کہا کہ انسانی زندگی کے تحفظ کے لیے ہمارے اقدامات کامیاب رہے اور ہم بتدریج معمول کی طرف لوٹ رہے ہیں۔اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی محرک اب بھی فعال ہے۔اس نے اندازہ لگایا کہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیراورممکنہ اسرائیلی اور یہودی اہداف کا پتالگانےکی بدستورکوششیں جاری ہیں۔اس نے اسرائیلیوں پرزوردیا ہے کہ وہ اب بھی ترکی کے غیرضروری سفر سے گریز کریں ۔برسوں کی کشیدگی کے بعد اسرائیل کے ساتھ ترکی کے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں اور سیاحت دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔اسرائیل نے 13جون کو اپنے شہریوں پرزوردیا تھا کہ وہ ایرانی کارندوں کی جانب سے درپیش حقیقی اور فوری خطرے کے پیش نظرفوری طور پراستنبول چھوڑدیں۔

اس سے ترک شہر پرسفری انتباہ کی سطح چارنکاتی پیمانے پر چار کردی تھی۔اس دوران میں ترکی میں اسرائیلی سیاحوں کو نشانہ بنانے کے لیے سازشوں میں ملوث افراد اور ایرانی ایجنٹوں کو حراست میں لینے کی تفصیل سامنے آئی ہے۔گذشتہ جمعرات کو اسرائیلی وزیرخارجہ یائر لاپیڈ نے انقرہ کا دورہ کیا تھا اور اسرائیلی سیاحوں پر مبیّنہ حملوں کی روک تھام میں ترکی کی پیشہ ورانہ اور مربوط سرگرمی پراس کا شکریہ ادا کیا تھا۔دریں اثنا ایران نے اسرائیلی الزامات کو مضحکہ خیز قراردیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی الزمات دونوں مسلم ممالک کے درمیان تعلقات کو تباہ کرنے کی پہلے سے تیار کردہ سازش کا حصہ ہیں۔ایران اور اسرائیل برسوں سے سردجنگ میں مصروف ہیں لیکن تہران نے اسرائیل پر حال ہی میں اپنے سائنس دانوں اور فوجی اہلکاروں کی پ±راسرارہلاکتوں کے واقعات میں ملوّث ہونے کے الزامات عاید کیے ہیں جس کے بعد دونوں ملکوں میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔