Muslim Leaders, Organisations Condemn Udaipur Killing, Term It Brutal, un-Islamic

نئی دہلی(اے یو ایس)جمعیة علمائے ہند، درگاہ اجمیر شریف ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین،اعلیٰ حضرت درگاہ بریلی ،آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت سمیت تمام بڑی مسلم جماعتوں نے ادے پور میں ایک درزی کا سر کاٹنے کے واقعہ کی سخت مذمت کی اور کہا کہ یہ نہ صرف قانون کے خلاف ہے بلکہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔درگاہ اجمیر شریف کے سربراہ زین العابدین علی خان نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ملک میں طالبان ذہنیت کو کبھی برداشت نہیں کریںگے۔درگاہ اجمیر شریف کے دیوان زین العابدین علی خان نے ادے پور میں ایک درزی کے بہیمانہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی مذہب انسانیت کے خلاف تشدد کا درس نہیں دیتا، خاص طور پر اسلام میں تمام تعلیمات امن پر مبنی ہیں۔

مذہب اسلام میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ پر سامنے آنے والی لرزہ خیز ویڈیو میں کچھ غیر اخلاقی عناصر نے ایک غریب آدمی پر وحشیانہ حملہ کیا جسے اسلامی دنیا میں قابل سزا گناہ قرار دیا جاتا ہے۔ اجمیر شریف کے دیوان نے کہا کہ ملزمان بعض بنیاد پرست گروہوں کا حصہ تھے جو تشدد کے راستے سے ہی اہانت رسول کا حل تلاش کرتے ہیں۔ زین العابدین نے کہا کہ میں اس عمل کی سختی سے مذمت کرتا ہوں اور حکومت سے ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی درخواست کرتا ہوں۔ ہندوستان کے مسلمان کبھی بھی اپنی مادر وطن میں طالبانائزیشن کی ذہنیت کو سامنے نہیں آنے دیں گے۔

جمعیة علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے بھی اس کی مذمت کی اور کہا کہ کسی ناحق کو مارنا اسلام کے خلاف ہے۔ اس مذموم فعل کو کسی بھی طریقے سے جائز قرار نہیں دیا جائے گا۔ یہ نہ صرف قانون کے خلاف ہے بلکہ اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے۔ کسی کو قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں د ی جائے گی۔واضح ہو کہ دو نوجوانوں نے ادے پور کے ایک درزی کو اس وجہ سے ہلاک کر دیا کہ اس نے نوپور شرما کے بیان کی ویڈیو کے ذریعہ حمایت کی تھی۔ جن دو لوگوں نے اس کو ہلاک کیا ان کی شناخت ریاض اختر اور غوث محمد کے طور پر کی گئی ہے۔ کنہیا لال درزی کوحال ہی میں پولیس نے سوشل میڈیا پر کچھ نازیبا تبصرہ کرنے کی بنیاد پر گرفتار بھی کیاتھا۔ اس دوران راجستھان حکومت نے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل کی جو سارے واقعہ کی تحقیقات کرے ۔ اس ٹیم کی قیادت ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کررہی ہے۔ اس واقعہ کے فوراً بعد علاقے میں دفعہ144 نافذ کر دی گئی۔